لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے کے لیے دائر درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

عدالتِ عالیہ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لیے پاکستان زندہ باد پارٹی کی جانب سے دائر درخواست پر 16 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے فیصلہ سناتے ہوئے اس درخواست کو درخواست گزار کی جانب سے واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردیا اور درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

مزید پڑھیں: ’اگر میں غدار اور ملک دشمن ہوں تو ایک قومی کمیشن بنایا جائے‘

خیال رہے درخواست گزار نے نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کی ایک درخواست لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا جائے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیراعظم کا ممبئی حملوں سے متعلق بیان ملک سے غداری کے مترادف ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نے پاکستان اور قومی سلامتی اداروں کو بدنام کیا ہے اس لیے عدالتِ عالیہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کی درخواست پر بھی لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو بعد میں سنایا جائے گا۔

نواز شریف کا متنازع تصور کیا جانے والا بیان

یاد رہے کہ 12 مئی 2018 کو ڈان اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔

نواز شریف سے جب پوچھا گیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کا بیان اور سیاست دانوں کا ردِ عمل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بیان کو غداری سے منسوب کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قائد کے بیان کو بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے پاکستان الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے بھارتی پروپیگنڈے کی توثیق کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ’نواز شریف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں‘

سابق صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے چیئرمین جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان نہ تو ملوث تھا اور نہ ہی میں اس حوالے سے ایسی بات کرنے کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرا حوالہ دے کر خواہ مخواہ مجھے اپنے ساتھ گھسیٹنے کی مذموم کوشش کی ہے‘۔

متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 3 مرتبہ وزیراعظم رہے، ان کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، ممبئی حملوں سے متعلق بیان بے بنیاد قرار

خیال رہے کہ پاک فوج کی ‘تجاویز’ پر ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا میں 'گمراہ کن' بیانات پر مشاورت کے لیے 14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر میں جاری بیان میں کہا تھا کہ ‘میڈیا میں ممبئی حملوں کے حوالے سے چلنے والے گمراہ کن بیان پر مشاورت کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں پیر کی صبح قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی تھی’۔

میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے کسی میڈیا کے بیان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ تجویز سابق وزیراعظم نواز شریف کے ڈان کو ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں پر دیئے گئے بیان پر میڈیا میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوا ہے۔

14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو متفقہ طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق شرکا نے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِاعظم کے بیان سے جو رائے پیدا ہوئی ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ حقائق پر مبنی نہیں، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے ممبئی حملوں سے متعلق ان کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کے جاری اعلامیے کو مسترد کردیا تھا۔

رواں ماہ 15 مئی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک، تکلیف دہ ہے جبکہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: ’ممبئی حملوں پر بیان کے بعد کی صورتحال میں نواز شریف کے ساتھ ہوں‘

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے کہا تھا کہ جس نے ملک کو نا قابل تسخیر بنایا اس کے خلاف غداری کی باتیں کی جارہی ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک انٹرویو کیا گیا جس میں چند باتیں لکھیں گئیں تھیں، وہ معاملات ایسے نہیں تھے کہ جس پر صرف نواز شریف نے باتیں کی بلکہ جنرل پرویز مشرف، جنرل پاشا، عمران خان، فوجی آفیسر درانی اور سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بھی اس پر باتیں کی ہیں۔