دنیا کی بلند ترین چوٹی کو بھی انسانوں نے کچرا کنڈی بنادیا

26 جون 2018

ای میل

ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی 8 ہزار 800  میٹر سے بھی بلند ہے—فوٹو: انڈین ایکسپریس
ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی 8 ہزار 800 میٹر سے بھی بلند ہے—فوٹو: انڈین ایکسپریس

آج خود انسان کی جانب سے پیدا کردہ آلودگی کے باعث جہاں گنجان آباد شہروں میں گلوبل وارمنگ کی بدولت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے نظام زندگی مفلوج کیا ہوا ہے، وہیں سمندر، دریا، جھیلیں اور پانی کے دیگر ذخائر بھی اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

انسان کی اپنی ہی پھیلائی ہوئی آلودگی اور گندگی نے اس خوبصورت کائنات کو کچرے کا ایسا ڈھیر بنادیا ہے، جس سے اب دنیا کے ہر خطے کا ہر ملک اور ہر قدرتی شاہکار متاثر ہونے لگا ہے۔

فضائی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جہاں بڑے شہر اور سمندر متاثر ہوئے ہیں، وہیں اس سے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہونے والی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور اب وہاں برف کے حسین نظاروں سے زیادہ کچرا نظر آتا ہے، ساتھ ہی وہاں کسی خوشگوار احساس اور خوشبو کی جگہ انسانی صحت کے لیے مضر بدبو سے سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کا شمار دنیا کے بلند ترین چوٹی میں کیا جاتا ہے جو سطح سمندر سے 8 ہزار 884 میٹر بلند ہے اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں ماہا لنگر ( نیپال )میں واقع ہے، یہ وہ علاقہ ہے جو چین اور نیپال کی سرحدوں کو علیحدہ کرتا ہے، تاہم اب یہ بلند ترین چوٹی کچرے کے ڈھیر میں بدلتی جا رہی ہے۔

نیپال کی مقامی زبان میں اسے 'ساگر ماتا' بھی کہا جا تا ہے، ماؤنٹ ایورسٹ صدیوں سے سیاحوں اور مہم جو افراد کی توجہ کا خصوصی مرکز رہی ہے، اس کو سر کرنے کے 2 راستے ہیں جن میں اس ایک نیپال کے جنوب مشرق کی طرف سے ہے جسے چوٹی سر کرنے کا بنیادی راستہ سمجھا جاتا ہے ، جب کہ دوسرا راستہ چین کے زیر اثر اور متنازع علاقے تبت کے شمال کی جانب سے ہے جو تکنیکی حوالے سے زیادہ خطرناک ہے۔

ابتداء میں نیپال نے غیر ملکی افراد کا ایورسٹ کے علاقے میں داخلہ بند کیا ہوا تھا, جس وجہ سے زیادہ تر مہم جو تبت کے خطرناک راستے سے چوٹی سر کرنے کی کوشش کرتے رہے اور حادثات کا شکار ہو ئے، ان میں سے زیادہ تر مہم جو کا تعلق برطانیہ سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ماﺅنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی نہیں

سب سے پہلے 1953 میں سر ایڈمند ہیلیری نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا جس کے بعد سے 5 ہزار سے زائد افراد اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کر چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی مہم ناکام ہوئی اور محض چند سو باہمت کلائمبرز ہی 8848 میٹر کی بلندی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

اقوام متحدہ کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب 14 لاکھ کلو کچرا جمع ہے—فوٹو: اے ایف پی
اقوام متحدہ کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب 14 لاکھ کلو کچرا جمع ہے—فوٹو: اے ایف پی

اگرچہ اب کلائمبرز کو ہر طرح کی جدید سہولیات دستیاب ہیں اور بلندی پر کوئی حادثہ پیش آنے کے صورت میں ہیلی کاپٹر سے ریسکیو بھی فورا فراہم کی جاتی ہے، مگر سیکڑوں میں سے چند ہی اس چوٹی کو سر کر پاتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اب یہ بلند و بالا چوٹیاں بھی محفوظ نہیں رہیں اور زیادہ تر مہم جو اچانک رونما ہونے والے برفانی طوفان، گہری برف میں مدفن دراڑوں، کھائیوں اور لینڈسلائڈنگ کا شکار ہوکر یا تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا پھر آدھے راستے سے واپس پلٹ آتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہر برس کتنے افراد چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ فی الوقت نیپال اور تبت کی حکومتوں کو ماؤنٹ ایورسٹ کے حوالے سے جو سب سے بڑا مسئلہ در پیش ہے وہ ہمالیہ کے ان پہاڑی سلسلوں میں سیاحوں کی کثرت سے آمد کے باعث بڑھتی ہوئی آلودگی ہے۔

دنیا بھر سے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کے شوقین افراد مکمل منصوبہ بندی اور ہر طرح کے ساز و سامان سے لیس نیپال یا تبت والے راستے سے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے آتے ہیں، جن کے سامان میں آکسیجن اور کھانا پکانے کے لیے گیس سلنڈر سے لے کر اوپر چڑھنے کے لیے رسی تک تمام اشیاء موجود ہوتی ہیں، مگر انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ قدرت کی صنائی کے دلدادہ یہ افراد جب مہم کامیاب یا ناکام ہونے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے روانہ ہوتے ہیں تو اچھے دنوں کی یادوں، یادگار ویڈیوز اور سیلفیز کو ساتھ رکھ کر اپنا بچا کچا سامان ساتھ لے کر جانے کے بجائے یہیں چھوڑ جاتے ہیں تاکہ واپسی کا سفر نسبتا آسان ہو سکے، اور یوں دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کے باعث شہرت رکھنے والا ہمالیہ کا یہ سلسلہ رفتہ رفتہ کچرے کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر بھی کچرا موجود ہے، جسے کچھ مہم جو صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں—فوٹو: بی بی سی
ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر بھی کچرا موجود ہے، جسے کچھ مہم جو صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں—فوٹو: بی بی سی

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 11،793 کلوگرام کا کچرا کلائمبنگ کے ہر نئے سیزن میں اس چوٹی کے اطراف جمع ہورہا ہے، جس میں گیس سلنڈرز قابل ذکر ہیں۔

مزید پڑھیں: ماﺅنٹ ایورسٹ جتنا لمبا عروسی لباس

وہ مقامی افراد جو پیسے لے کر غیر ملکیوں کی مہم میں سامان اٹھانے کا کام کرتے ہیں انھیں مقامی نیپالی زبان میں شرپا کہا جاتا ہے، یہ افراد مہم کے ختم ہونے کے بعد بچا کچا سامان اپنے ساتھ گھروں میں لے آتے ہیں اور جو ان کے کام کا نہ ہو اسے بیس کیمپ پر ایسے ہی پھینک دیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ علاقہ گذشتہ کچھ عرصے سے کسی کچرا گھر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔

اس کے علاوہ کثرت سے سیاحوں کی آمد نے آلودگی سے متعلق کئی اور سنگین مسائل کو بھی جنم دیا ہے، یہاں آنے والے تمام مہم جو سب سے پہلے بیس کیمپ میں اپنے خیمے گاڑھتے ہیں اور قیام کے لیے کچھ فاصلے پر برف میں کم گہرے سوراخ کرکے عارضی ٹوائلٹ بنالیا جاتا ہے۔

مہم چاہے کامیاب رہے یا ناکام یہ سیاح جب بیس کیمپ سے رخصت ہوتے ہیں تو ان ٹوائلٹس کو یونہی برف ڈال کر بھر دیا جاتا ہے جو بعد میں سڑ کر ماحول کو متعفن تو کرتے ہی ہیں، تاہم اب اس عمل سے ماؤنٹ ایورسٹ کی برف کے ساتھ ان علاقوں کا زیر زمین پانی بھی زہریلا ہوچکا ہے۔

اس بیس کیمپ سے قریب ترین آبادی 'گورکھ شیپ' نامی گاؤں ہے، جسے اس بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث شدید خطرات لاحق ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر اس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی تو آئندہ چند برس میں یہ کسی بڑے ڈیزاسٹر کا سبب بن سکتی ہے۔

ہمالیہ کے ان سلسلوں میں آباد زیادہ تر افراد اب بھی ان پڑھ ہیں، اگرچہ شدید سرد موسم سے نبرد آزما یہ مقامی لوگ انتہائی محنتی، ایماندار اور جفا کش ہیں مگر تعلیم کی کمی کے باعث وہ شعور نہیں رکھتے کہ ایورسٹ کی صورت میں قدرت نے جو شاہکار انھیں عطا کیا ہے اسکی حفاظت کس طرح کرنی ہے۔

کچرے کی وجہ سے علاقے میں بھی تعفن پھیل چکا ہے—فوٹو: بی بی سی
کچرے کی وجہ سے علاقے میں بھی تعفن پھیل چکا ہے—فوٹو: بی بی سی

اس میں نیپال کی حکومت کی غفلت اور خود غرضی کا بھی دخل ہے، کیوں کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر صرف ایک کلائمبنگ سیزن میں 800 سے ایک ہزار تک سیاح آتے ہیں اور حکومت کو سیاحت سے کافی ریوینیو ملتا ہے، مگر اس کے باوجود ان علاقوں اور یہاں کے مقامی افراد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔

البتہ گذشتہ ایک 2 برس کے دوران یہاں آنے والے غیر ملکی سیاحوں نے بیس کیمپ اور اطراف میں بڑھتی ہوئی زمینی آلودگی کے خلاف دنیا بھر میں موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے اور کئی ممالک کے غیر ملکی انجینئرز نے مل کر گورکھ شیپ کے ماحول اور مقامی آبادی کی صحت کی حفاظت کے لیے یہاں بایو گیس کا ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کے ذریعے اطراف میں جمع ہونے والے کچرے کے ڈھیروں کو ری سائیکل کر کے بایو گیس (میتھین) تیار کی جائے گی، جس سے ایک طرف تو شدید سردی میں جلانے کی لکڑی کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا اور اطراف کی آبادی کو سستا ایندھن میسر آئے گا، تو وسری طرف پراجیکٹ کے دوران مقامی افراد کو مناسب ملازمت کے مواقع بھی ملیں گے اور انہیں غیر ملکی انجینئرز سے تعلیم حاصل کرنے اور کچھ بہترین ہنرسیکھنے کا موقع بھی ملے گا، جس سے لا محالہ صدیوں سے برفانی حالات سے نبرد آزما ان باہمت لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں واقع ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ پر شادی کرنے والا جوڑا

اس کے علاوہ اس پراجیکٹ سے زیر زمین پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی جس کی وجہ سے مقامی آبادی کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ہر سیزن میں ماؤنٹ ایورسٹ کے کچرے میں 11 ہزار کلو کا اضافہ ہو رہا ہے—فوٹو: پنٹریسٹ
ہر سیزن میں ماؤنٹ ایورسٹ کے کچرے میں 11 ہزار کلو کا اضافہ ہو رہا ہے—فوٹو: پنٹریسٹ

یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے کہ دنیا بھر سے متمول شوقین مزاج افراد کئی عشروں سے لاکھوں ڈالر اور پونڈز خرچ کرکے ہمالیہ کے اس پہاڑی سلسلے کا رخ کرتے رہے ہیں اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم کو دنیا کی چند مہنگی ترین مہمات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے لیے سیاحوں کا ساز و سامان ہرطرح کی جدید سہولیات سے لیس ہوتا ہے، مگر ان کی مہمات میں بنیادی کردار ادا کرنے والے یہ مقامی لوگ اب تک مناسب ایندھن اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مگر اب اس جانب بھی توجہ دی جارہی ہے اور یہاں سولر پینل کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

ان منصوبوں سے نہ صرف مقامی آبادی کو فائدہ ہوگا بلکہ مہم کے لیے آنے والے افراد کو اپنے ساتھ اضافی جنریٹر، سولر پینل اور گیس سلنڈر بھی ساتھ میں نہیں لانے پڑیں گے، یوں واپس جاتے ہوئے جو کچرا وہ بیس کیمپ میں چھوڑ جاتے تھے اس میں آہستہ آہستہ خود بخود کمی ہوتی جائے گی۔

مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ صرف عارضی حل ہیں اور ماؤنٹ ایورسٹ کے اطراف میں گذشتہ کئی عشروں میں انسان نے جس قدر آلودگی پھیلائی ہے اس کے لیے ایک دیرپا اور مکمل حکمت عملی ناگزیر ہے۔


صادقہ خان نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کیا ہے، وہ پاکستان کی کئی سائنس سوسائٹیز کی فعال رکن ہیں۔ ڈان نیوز پر سائنس اور سپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]