لاہور: سپریم کورٹ نے انتخابات 2013 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 پر نتائج کو کالعدم قرار دے کر ضمنی انتخابات کرانے کے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

خیال رہے کہ الیکشن ٹریبیونل نے 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 125 کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر ضمنی انتخاب کا حکم دیا تھا، تاہم خواجہ سعد رفیق کی جانب سے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: این اے 125، پی پی 155: الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس منظور احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔

واضح رہے کہ ٹریبیونل کے فیصلے پر پہلے سپریم کورٹ کی جانب سے حکم امنتاع جاری کیا گیا تھا جبکہ بعد ازاں دلائل مکمل ہونے کے بعد 19 مارچ کو اس پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں اس وقت کی حلقہ بندی کے مطابق این اے 125 میں خواجہ سعد رفیق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حامد خان کو شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ سعد رفیق این اے-125 سے فاتح

تاہم حامد خان نے خواجہ سعد رفیق کی کامیابی کو الیکشن ٹریبیونل میں چیلنج کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔

بعد ازاں 2015 میں الیکشن ٹریبیونل نے انتخابات کے نتیجے کو کالعدم قرار دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ 60 روز کے اندر اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کرائے، تاہم خواجہ سعد رفیق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا جبکہ عدالت عظمیٰ نے دوبارہ انتخابات کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔