سپریم جوڈیشنل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیر صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل بینچ نے کی۔

جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس بلوچستان اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: میرے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے،جسٹس شوکت کا چیف جسٹس سے مکالمہ

جوڈیشل کونسل نے سماعت حکومت کی طرف سے ریفرنس تیار کرنے والے وکیل سابق اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کے بیرون ملک ہونے کے باعث ملتوی کی۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ گواہ علی انور گوپانگ کے بیان حلفی پر جرح کا تحریری حکم نامے میں کوئی ذکر نہیں ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا جاتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے لیکن ہم انصاف کے تقاضے ہر طور پورا کریں گے۔

کونسل کے رکن جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ دستاویزات چونکہ سابق اٹارنی جنرل مولوی انور الحق نے تیار کیں، اس لیے وہ بہتر طور پر دستاویز کے متعلقہ حصوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اوپن ٹرائل کی درخواست منظور

بعد ازاں کونسل نے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دوران ان کی 3 متفرق درخواستیں مسترد کی تھیں۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت سے کہا کہ آپ نے قانونی نکات طے کیے بغیر درخواستیں خارج کردیں۔

انہوں نے کہا کہ ’تاثر نہ دیا جائے کہ انصاف نہیں ہورہا، تیزی سے مقدمہ سننے کی کوئی تو وجہ ہے، آپ کی اتنی جلدی درخواست نمٹانے سے تاثر کچھ اور ملتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: جسٹس شوکت صدیقی کا عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’ہر شخص کا حق ہے اسے انصاف ملنا چاہیے، یہ تو جج ہیں انہیں تو انصاف ملے گا ہی، لیکن ہم آپ یا آپ کے موکل کی مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اگر جج صاحب کے خلاف کچھ نہیں تو وہ کلین چٹ لے کر جائیں، ہمارے دل میں کسی کے لیے کوئی تعصب نہیں، میرے لیے بعد میں سرخرو ہونے والی بات کی زیادہ اہمیت ہے اور میں یہاں سے منہ کالا کروا کر نہیں جانا چاہتا، جبکہ اگر منصف کو انصاف نہ مل سکے تو اس سے بڑی نانصافی نہیں ہوگی۔‘