ڈھاکہ: بنگلہ دیشن کے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک (آئی ڈی بی) سمیت عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ ہزاروں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے میانمار حکومت پر دباؤ بڑھائے۔

واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں میانمار کی فوج نے گزشتہ سال ریاست رخائن میں مسلمانوں کی ہلاکت میں فوجی اور بدھ مذہب کے پیروکاروں کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا اور فوجی ظلم و ستم کے مارے مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار حکومت نے انسانی حقوق کی رکن کو داخلے سے روک دیا

وزیراعظم شیخ حسینہ نے ملک میں آئی ڈی بی کی ذیلی برانچ کی افتتاحی تقریب میں واضح کیا کہ ‘افرادی قوت، مقامی آبادی اور ماحولیات کے حوالےسے منفی اشاریوں کے باوجود انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے لیے سرحدی راستے کھولے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں عالمی برادری پر زور دیتی ہوں کہ میانمار پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ پناہ گزین روہنگیا مسلمان کی واپسی کے لیے ساز گار ماحول پیدا ہو سکے’۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ‘آئی ڈی بی میانمار کے روہنگیا شہریوں کی نسل کشی پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتا’۔

دوسری جانب آئی ڈی بی کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، اقوام متحدہ

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں دونوں ملکوں کے مابین پناہ گزینوں کی 2 مہینے کے اندر واپسی سے متعلق معاہدے ہوئے لیکن اس پر عملدرآمد کا سلسلہ تعلطل کا شکار رہا۔

میانمار حکومت کے ترجمان زا ہٹائے نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نئی پالیسی کے تحت وہ صرف میڈیا کے سوالات کا جواب دینے کے پابند ہیں۔

دوسری جانب میانمار حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پناہ گرینوں کی واپسی کو قبول کرتے ہیں اور اس ضمن میں ابتدائی اقدامات بھی اٹھائے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار کی فوج کا روہنگیا مسلمانوں کے قتل کا اعتراف

اس حوالے سے غیر سرکاری تنظیم رائٹس گروپ نے بتایا کہ میانمار کے شمالی علاقے رخائن میں ریاستی امور واپس آنے والے پناہ گزینوں کے موافق نہیں ہیں۔


یہ خبر 10 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی