میانمار حکومت نے انسانی حقوق کی رکن کو داخلے سے روک دیا

اپ ڈیٹ 21 دسمبر 2017

ای میل

نیویارک: اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی خصوصی تفتیش کار یانگھی لی نے کہا ہے کہ میانمار حکومت نے انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں نسل کشی جاری ہے اور لاکھوں روہنگیا مسلمان پناہ کے لیے ہجرت کر چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ‘میانمار حکومت نے اپنے ملک میں رسائی دینے اور ہر قسم کے تعاون یا سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے’۔

یہ پڑھیں: میانمار :’فوج مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ میانمارحکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی’۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے بیان میں کہا کہ میانمار حکومت یانگھی لی کواپنے ملک میں کسی بھی طرح کی رسائی دینے اور تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ خصوصی تفتیش کار کو اگلے ماہ میانمار کا دورہ کرنا تھا جہاں انہیں ریاست راکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے ریاستی ظلم وجبر اور بربریت کا جائزہ لیکر حقائق کا پتہ لگانا تھا۔

یانگھی لی نے کہا کہ ‘وہ میانمارحکومت کے فیصلے پر سخت افسردہ اور مایوس ہوئی ہیں اور اجازت نہ دینا اس جانب اشارہ ہے کہ میانمار کی ریاست راکھائن میں مسلمانوں کے ساتھ خوفناک صورتحال ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘دو ہفتے قبل میانمار کے مستقل ترجمان نے انسانی حقوق کونسل کو اپنے بھر پور تعان کی یقین دہانی کرائی تھی’۔

یہ بھی پڑھیں: وہ جن کا کوئی ملک نہیں

اقوام متحدہ کے مطابق میانمار فوج کی بربریت سے 6 لاکھ 30 ہزار روہنگیا مسلمان جان بچا کر دیگر پڑوسی ملکوں کی جانب ہجرت کر گئے تھے اور وہ انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

بغیر سرحد کے ڈاکٹروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ 6 ہزار 7 سو روہنگیا مسلمان کو قتل کردیا گیا ہے۔

گزشتہ مہینے امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے میانمار میں نسل کشی سے متعلق بیان میں کہا تھا کہ امریکا اہداف پر مشتمل پابندیاں عائد کرے گا۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے میانمار فوج کی جانب سے حملے کے بعد جلائے جانے والے گھروں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں 1000 جلے ہوئے گھروں کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن میانمار انتظامیہ نے گھروں کو جلائے جانے اور حملوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب روہنگیا لوگوں کے اپنے کارنامے ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ کا میانمار مظالم کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

روہنگیا لوگوں کی بہت بڑی تعداد میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں رہائش پذیر ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل روہنگیا لوگوں کو بنگلہ دیش کے لوگ برمی مانتے ہیں۔

بنگلہ دیش اور برما کے درمیان تنازع کا سبب رہنے والے روہنگیا لوگوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے گزشتہ چند سالوں سے خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں جس کے باعث روہنگیا افراد مسلسل بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، امریکا اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے روہنگیا لوگوں کی دن بہ دن بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن میانمار حکومت تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔


یہ خبر 21 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی