زلمے خلیل زاد کی شاہ محمود سے ملاقات،ٹرمپ کے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا

ای میل

زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی — فوٹو : بشکریہ  ٹوئٹر
زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی — فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے دورہ پاکستان کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ملاقات میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ کو افغانستان امن عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زلمے خلیل زاد کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان، افغانستان کے سیاسی حل کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی نمائندہ خصوصی کی تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق اس سے قبل زلمے خلیل زاد نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ،اس موقع پر پاک – امریکا سفارتی، سیکیورٹی اور دفاعی حکام بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی سے ملاقات میں افغان مفاہمتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔

واضح رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تعینات ہونے کے بعد سے اب تک یہ زلمے خلیل زاد کا پاکستان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے۔

زلمے خلیل زاد آج (منگل کو ) 17 سال سے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں مدد کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔

وہ پاکستان میں اپنے دوسرے سرکاری دورے میں افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان کو راضی کرنے کے سلسلے میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام سے ملاقات کریں گے۔

زلمے خلیل زاد کی آمد سے متعلق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان مفاہمتی عمل کے مندوب ایسے وقت میں اسلام آباد پہنچے ہیں جب ایک روز قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کو خط لکھا تھا’ جس میں انہوں نے افغان تنازع کا حل نکالنے کے لیے اسلام آباد سے مدد کی درخواست کی تھی‘ ۔

مزید پڑھیں : ٹرمپ کا عمران خان کو خط، افغان طالبان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی درخواست

امریکی کونسل برائے قومی سلامتی کے ترجمان نے ڈان کو بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے پہلے خط میں افغانستان میں قیام امن کی امریکی کوشش کے سلسلے میں ’ پاکستان کی مکمل حمایت‘ طلب کی تھی۔

افغانستان میں جاری جنگ کے پرامن خاتمے کی کوشش کے تحت زلمے خلیل زاد پاکستان کے علاوہ افغانستان، روس ، ترکمانستان، بیلجیئم، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی پریس ریلیز کے مطابق ’ زلمے خلیل زادافغانستان میں امن عمل کی حمایت کے سلسلے میں افغان حکام اور دیگر جماعتوں سے ملاقات کریں گے تاکہ افغان قوم کے مستقبل کے فیصلے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جاسکے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، اور زور دیا کہ پاکستان اور امریکا مل کر اس شراکت دار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دوسرے شعبوں میں بھی کام کریں۔

جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بھی امریکی صدر کی جانب سے وزیرِاعظم عمران خان کو خط موصول ہونے کی تصدیق کی تھی۔

وزیرِاطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو خط لکھا ہے اور انہوں نے پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مانگی ہے۔

’ کم تکبرانہ ذہنیت‘

پاکستان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے زلمے خلیل زاد کے دورے سے متعلق ٹوئیٹ کے جواب میں لکھا کہ ’ اس مرتبہ جب آپ اسلام آباد آئیں تو مخالفانہ اور تکبرانہ ذہنیت میں کمی کرکے آئیں‘۔

پاکستان تحریک انصاف کی وزیر شیریں مزاری ماضی میں پاک - امریکا تعلقات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغان مفاہمتی عمل کے امریکی نمائندے کی وزیرخارجہ سے ملاقات

دوسری جانب زلمے خلیل زاد اکثرپاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے اور افغانستان میں انتہا پسندی کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

رواں برس ستمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کوافغانستان میں امن عمل کے امریکی نمائندہ مقرر کیے جانے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے موقف کا خیال رکھیں۔