افغان مفاہمتی عمل کے امریکی نمائندے کی وزیرخارجہ سے ملاقات

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2018

ای میل

—فوٹو:بشکریہ ریڈیو پاکستان
—فوٹو:بشکریہ ریڈیو پاکستان

افغانستان میں امن عمل کے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد 17 برس سے جنگ زدہ افغانستان میں امن مذاکرات میں مدد حاصل کرنے کے لیے پاکستان پہنچے اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

زلمے خلیل زاد کابل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزارت خارجہ کے دفتر میں پاکستان اور امریکا کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جہاں پاکستان کی جانب سے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور امریکی وفد کی سربراہی زلمے خلیل زاد نے کی۔

زلمے خلیل زاد نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

دونوں وفود نے افغان مفاہمتی عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ زلمے خلیل زاد کو 2001 میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کابل کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا جس کے بعد انہیں افغانستان میں امریکا کا سفیر تعینات کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:پاکستان کو بھارتی نظریے سے دیکھنا مناسب نہیں، شاہ محمود قریشی

زلمے خلیل زاد ماضی میں پاکستان کو طالبان کی حمایت اور افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے زلمے خلیل زاد کو امریکی نمائندہ خصوصی مقرر کرنے پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے موقف کا خیال رکھیں۔

شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں کہا تھا کہ ‘انہیں ایک نئی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ پاکستان کے بارے میں موقف دیتے وقت زیادہ محتاط رہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پریس میں زلمے خلیل زاد کی تعیناتی پر منفی اثر گیا ہے کیونکہ ماضی میں ان کے بیانات پاکستان مخالف تھے۔