کمیٹیوں کے قیام کے بغیر قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہوگا

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2018
پی اے سی چیئرمین شپ پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک برقرار ہے—فائل فوٹو
پی اے سی چیئرمین شپ پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک برقرار ہے—فائل فوٹو

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ کے معاملے پر ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوششوں کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کا چھٹا اجلاس آج بروز پیر (10 دسمبر) کو ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر پہلے ہی جاری کردیے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسد قیصر نے صحافیوں سے بات چیت میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ وہ آئندہ اجلاس میں ایوان کی کمیٹیاں بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: پی اے سی چیئرمین پر ڈیڈلاک توڑنے کیلئے اسپیکر اسمبلی کی سرتوڑ کوشش

انہوں نے کہا تھا کہ وہ کمیٹیوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ یہ معاملہ ’خوش اسلوبی‘ سے حل ہوجائے گا۔

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس سے قبل اسپیکر اسد قیصر نے ایوان کی بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، جہاں اس بات کا امکان ہے کہ قومی اسمبلی میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ پی اے سی کی چیئرمین شپ کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن نے دھمکی دی تھی کہ ’پارلیمانی روایت‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اگر پی اے سی چیئرمین شپ نہیں دی گئی تو وہ تمام کمیٹیوں کا بائیکاٹ کردے گی، جس کے باعث اسپیکر اسد قیصر نے کمیٹیوں کے قیام کا عمل روک دیا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر ان سے ملاقات میں پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لیے شہباز شریف کو نامزد کرنے کے مطالبے پر راضی ہوئے تھے لیکن بعد ازاں اپنی جماعت کے دیگر اراکین کی مزاحمت کے بعد وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پی اے سی کی چیئرمین شپ شہباز شریف کو دینے کی خواہشمند نہیں، وہ کہتی ہے کہ وہ انہیں ان منصوبوں کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دے سکتیں، جو ان کے بڑے بھائی نواز شریف نے شروع اور مکمل کیے۔

اس سارے معاملے پر وزیر اطلاعات فواد چوہدی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کمیٹیوں کے قیام میں اپوزیشن کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔

قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کے قیام میں غیر معمولی تاخیر پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے اور جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے تو یہ معاملہ تقریباً غیرفعال ہوچکا ہے۔

موجودہ حکومت اپنی مدت کے 100 روز مکمل کرچکی ہے اور اس دوران قومی اسمبلی صرف فنانس (ضمنی) بل پاس کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘پی اے سی کی سربراہی اپوزیشن کو دینا لومڑی کو ڈربے کی رکھوالی کے مترادف‘

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ قوانین کے مطابق قائد اعوان (وزیر اعظم) کے انتخاب کے بعد 30 روز میں اسپیکر اسمبلی اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ تمام قائمہ کمیٹیوں اور فنکشنل کمیٹیوں کا قیام عمل میں لائیں۔

اس تناظر میں 18 اگست کو وزیر اعظم کا انتخاب ہوا تھا اور اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس ایوان کی 3 درجن سے زائد کمیٹیوں کے قیام کے لیے 17 ستمبر تک کا وقت تھا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے قوانین کے تحت تمام اپوزیشن جماعتوں نے کمیٹیوں کے لیے اپنے اراکین کے نام پہلے ہی دے دیے تھے لیکن اپوزیشن کی جانب سے پی اے سی کی چیئرمین شپ نہ ملنے پر تمام کیمیٹیوں سے اراکین کے نام کو واپس لینے کی دھمکی کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے کیمیٹیوں کے قیام کا عمل روک دیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں