ریلوے گالف کلب اسکینڈل: کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، سپریم کورٹ

04 اپريل 2019

ای میل

عدالت عظمیٰ نے آئندہ سماعت پر نیب سے ریفرنس کی نقل مانگ لی—فائل فوٹو: ڈان
عدالت عظمیٰ نے آئندہ سماعت پر نیب سے ریفرنس کی نقل مانگ لی—فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے رائل پام گالف کنٹری کلب ریلوے اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے اس حوالے سے دائر ریفرنس کی نقل طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے گالف کنٹری کلب اراضی کیس کی سماعت کی، اس دوران وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر شیخ رشید نے دلائل دینے کی اجازت مانگی جس پر عدالت عظمیٰ نے انہیں کیس میں دلائل دینے کی اجازت دی۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہ کیس 9 سال سے زیر التوا ہے، لیز پر دی گئی زمین کی قیمت 200 ارب روپے سے زیادہ ہے، وکیل کو 45 لاکھ روپے فیس دی ہے وہ ایک کروڑ مانگ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے محکمہ ریلوے کو اراضی کی فروخت سے روک دیا

وفاقی وزیر نے جسٹس عظمت سعید سے مکالمہ کیا کہ ملک کا سرمایہ تباہ ہوچکا ہے، آپ اس ملک کے سرتاج ہیں، جس پر عدالت عظمیٰ کے جسٹس نے کہا کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آئین، فرگیوسن والے ایک روپے دینے کو تیار نہیں۔

اس دوران عدالت میں موجود پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ اراضی کی لیز کے معاملے پر ریفرنس فائل کردیا ہے، فرد جرم عائد ہونا ہے، جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ اس ریفرنس کی نقل فراہم کی جائے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریلوے گالف کنٹری کلب اراضی کیس کی سامعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے رائل پام گالف کلب اسکینڈل کیس سے متعلق ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2001 میں پاکستان ریلوے نے لاہور میں نہر کنارے اپنے گالف کلب کی اراضی 33 سالہ لیز کے لیے پیش کش کی تھی، جس کے لیے متعدد کمپنیوں نے بولیاں جمع کروائیں تھی، جس میں نجی کمپنی میکس کورپس بھی شامل تھی، تاہم بولی کے عمل کے دوران لیز کے دورانیے کو غیر قانونی طور پر 33 سے بڑھا کر 49 سال کردیا گیا۔

اس کے علاوہ پیش کش کی گئی کہ زمین کے رقبے کو بھی غیر قانونی طور پر ریلوے آفیسرز کالونی گرا کر 103 سے 140 ایکڑ کردیا گیا، لہٰذا پاکستان ریلوے کی زمین کا قیمتی ٹکرا غیر شفاف طریقے سے غیر قانونی طور پر لیز ہوا، جس کا مقصد غیر قانونی طریقے سے لیز رکھنے والے اور ایک نجی کمپنی مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ کے مالک کو فائدہ پہنچانا تھا۔

نیب تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزمان نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 2001 میں تجارتی مقاصد کے لیے مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ کو ریلوے گالف کلب کی 49 سالہ لیز اور 140 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر دے کر مبینہ طور پر کرپشن کی، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 20 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

شاہ محمود اور جہانگیر ترین کا معاملہ پی ٹی آئی کے گھر کا ہے، شیخ رشید

علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈٰیا سے گفتگو میں ٹرین حادثے پر قوم سے معافی مانگ لی۔

خیال رہے کہ رحیم یار خان میں یکم اپریل کو مال بردار ریل گاڑی 'پی کے اے-34' کی 13 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں جس کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'دوسروں کی پروا نہیں، آخری سانس تک عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں'

شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہماری 18 گھنٹے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، لوگ خبریں لگوا رہے ہیں کہ ہم نے فالتو ٹرینیں چلائیں، مخالفین سن لیں ہم 16 ٹرینیں اور چلائیں گے، اس کے علاوہ 10 فریٹ ٹرینیں بھی مزید چلائیں گے۔

میڈیا سے گفتگومیں وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نے اراضی کیس کو برصغیرکا سب سے بڑا اسکینڈل قراردیتے ہوئے کہاکہ ریلوے اراضی کیس وہ خود لڑیں گے، نوسرباز گروپ دولت کی سرپرستی میں ہرآدمی کوخریدتا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پی ایس او کا کام ریلوے کو دلوا دیا ہے، ساتھ ہی وہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود کے معاملے پر بھی تبصرہ کر بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود کا مسئلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گھر کا ہے، گھر کی بات گھر میں ہی رہنے دی جائے تو بہتر ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں شاہ محمود قریشی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کی حکومتی اجلاس میں شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے پی ٹی آئی رہنما سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین کی حکومتی اجلاس میں شرکت کو پارٹی کا کارکن ذہنی طور پر قبول نہیں کر پارہا۔

اس پر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں صرف ایک شخص کو اپنا لیڈر مانتا ہوں اور اس کا نام عمران خان ہے۔