انتخابات میں حصہ لینے والے 4 ہزار امیدواروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی اجازت

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

ایسے امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
ایسے امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے ان 4 ہزار امیدواروں کے سر پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا لیکن مہلت دیے جانے کے باوجود متعلقہ ریٹرننگ افسران کو انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے متعلقہ ڈسٹرکٹ کمشنرز کو بحیثیت مجازی افسران ایسے تمام امیدواروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات کے اختیارات دے دیے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی کام کرنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابی اخراجات، تفصیلات درست نہ ہونے پر وزیراعظم سمیت 142 ارکان کو نوٹس

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 134 کے تحت انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار کے علاوہ دیگر امیدواروں کو بھی فارم سی پر اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیلات ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کروانا لازمی ہے۔

اس کے علاوہ دفعہ 175 کے مطابق اگر کوئی انتخابی اخراجات کے حوالے سے عمل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو اسے جرم کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔

الیکشن ایکٹ 136 کے تحت ریٹرننگ افسر مقررہ مدت کے دوران انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے والے امیدواروں کو نوٹس بھیجنے کا پابند ہوگا جس میں ان سے ہدایات کے مطابق عمل نہ کرنے کے حوالے سے پوچھا جائے گا اور اگر وہ نوٹس پر عمل نہیں کرتے تو ریٹرننگ افسر اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: نومنتخب اراکین اسمبلی کے انتخابی اخراجات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو موصول

مذکورہ رپورٹ ملنے پر الیکشن کمیشن ایسے امیدواروں کو نوٹسز بھیجے گا اور ان سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ کے بارے میں پوچھے گا۔

قانون کے مطابق امیدوار ایسی صورتحال میں کہ جب معاملات اس کے اختیار سے باہر ہوں، انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کروانے میں تاخیر کی درخواست دے سکتا ہے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ تمام معاملات بروئے کار لاتے ہوئے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اس سلسلے میں 3 نوٹسز جاری کرنے کے بعد ملک بھر میں انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع نہ کروانے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات لڑنے کیلئے اخراجات کی حد کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو اپنے اور ریٹرننگ افسران کے پاس موجود ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایسے تمام امیدواروں کے خلاف شکایات درج کروانے کے لیے مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو یہ بھی ہدایت کی کہ جو امیدوار شکایات دائر کیے جانے سے قبل اپنی دستاویزات جمع کروادے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔