ٹرمپ کی لاکھوں تارکین وطن کو آئندہ ہفتے سے ملک بدر کرنے کی دھمکی

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

ڈونلڈ  ٹرمپ اس سے قبل بھی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی سدھمکی دے چکے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی سدھمکی دے چکے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: آئندہ صدارتی انتخاب کے باضابطہ اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افراد کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دے دی۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ’امریکی امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ آئندہ ہفتے سے ان لاکھوں افراد کو بے دخل کرنے کا آغاز کرے گا جنہوں نے امریکا آنے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کیے‘۔

سلسلہ وار ٹوئٹس کرتے ہوئے امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جتنی تیزی سے آئے ہیں اتنی تیزی سے انہیں نکال دیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’غیر قانونی طور پر امریکا آنےوالوں کو فوراً ملک بدر کیا جائے‘

اس ضمن میں امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی صدر کی ٹوئٹس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان اقدامات کی زد میں 10 لاکھ سے زائد افراد آئیں گے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں فیڈرل ججز کی جانب سے بے دخلی کے حتمی نوٹسز دیے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ امریکا میں مقیم ہیں۔

غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی سے باخبر دیگر افراد کا کہنا تھا کہ مذکورہ آپریشن فوری طور پر نہیں ہوگا اور امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ کے عہدیداران کو معلوم نہیں تھا کہ امریکی صدر حساس قانون سازی کے بارے میں عوام کو ٹوئٹر پر بتادیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہونے والوں میں بھارتی سر فہرست

واضح رہے کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ بڑی غیر معمولی بات ہے کہ چھاپوں سے پہلے ان کا اعلان کردیا جائے۔


یہ خبر 19 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔