بچوں کا اغوا، ریپ روکنے کیلئے 'زینب الرٹ بل' کا ابتدائی مسودہ منظور

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

کمیٹی نے ریپ کے بعد قتل کی 14 سال قید کی سزا اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز دی — فائل فوٹو/ڈان
کمیٹی نے ریپ کے بعد قتل کی 14 سال قید کی سزا اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز دی — فائل فوٹو/ڈان

بچوں کی گمشدگی، ریپ اور اغوا کے کیسز کو فوری طور پر دیکھنے کے لیے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بل 2019 کا ابتدائی مسودہ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی نے منظور کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ مہرین رزاق بھٹو کا کہنا تھا کہ 'اس بل کا مقصد مستقبل میں ہمارے بچوں کو محفوظ بنانا ہے اور بچوں کے ریپ سے متعلق جرائم کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی قانون ہے لہٰذا اس میں سزائیں بھی سخت ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سے مجرم کو اپنے ناقابل معافی گناہ کا احساس اپنی موت تک ہوتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: زینب بھایو ریپ کیس: تین مجرمان کو پھانسی اور ایک کو عمر قید کی سزا

ذیلی کمیٹی نے 'زینب الرٹ بل' اور 'اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری رائٹ بل برائے معذور افراد 2018' پر اپنے مسلسل 5 اجلاسوں کے دوران بحث کی۔

تاہم اگر اس کے ابتدائی مسودے میں کوئی تبدیلی درکار ہوئی تو اسے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے دیکھا جائے گا۔

اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ نے مشاہدہ کیا کہ ملک میں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کے بعد انہیں قتل کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور ان واقعات میں زیادہ تر رشتہ دار ہی ملوث نکلتے ہیں جس کی وجہ سے یہ واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

کمیٹی نے ریپ کے بعد قتل کی 14 سال قید کی سزا اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی تجویز دی، جس میں ایسے واقعات میں ضمانت کی منظوری کے قانون کو بھی ختم کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے ساتھ ریپ: سابق کانسٹیبل کو 2 مرتبہ سزائے موت

اسی طرح اراکین اسمبلی نے بچوں کے ساتھ ریپ کے ملزم کے کیس کا فیصلہ 6 ماہ میں سنانے کے بجائے اسے 3 ماہ میں سنانے کے لیے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 182 میں ترمیم کی بھی پیشکش کی۔

اس موقع پر مہرین رزاق بھٹو کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کا مسودہ مکمل طور پر تیار کیا جاچکا ہے جس میں ریپ، ریسکیو اور اغوا سے متعلق فوری اقدامات کا تعین کیا گیا ہے۔

انہوں نے ون ونڈو آپریشن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مدد سے بچے کی گمشدگی کا رپورٹ 2 گھنٹے کے اندر ہی درج کرلی جائے، ورنہ ماضی میں فرشتہ نامی لڑکی کا کیس ایک ایسی مثال ہے کہ جہاں پولیس اسٹیشن میں گمشدہ بچی کے والدین کی 3 روز تک رپورٹ ہی درج نہیں کی گئی۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد زینب الرٹ، رسپورنس اینڈ ریکوری (زرا) ادارہ قائم کیا جائے گا جس کی مدد سے ایسے کیسز کے رپورٹ ہونے کے ساتھ ہی خودکار الرٹ جاری کردیا جائے گا۔