زینب بھایو ریپ کیس: تین مجرمان کو پھانسی اور ایک کو عمر قید کی سزا

اپ ڈیٹ 24 مئ 2019

ای میل

مجرمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ — فائل فوٹو: شٹراسٹاک
مجرمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ — فائل فوٹو: شٹراسٹاک

مقامی عدالت نے زینب بھایو ریپ کیس میں تین مجرموں کو سزائے موت کی سزا سنادی جبکہ تین خواتین سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔

کھپرو ٹاؤن میں ایڈیشنل سیشن جج سانگھڑ عنایت اللہ بھٹو نے زینب بھایو ریپ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرمان جہانزیب قائم خانی، دانش قائم خانی اور وسیم قائم خانی کو موت کی سزا سنادی۔

اس کے علاوہ عدالت نے زینب بھایو ریپ کیس میں نامزد ایک اور مجرم سہیل کو عمر قید کی سزا سنائی۔

مزید پڑھیں: میڈیکل کی طالبہ کا ریپ کرنے والے مجرم کو سزائے موت

عدالت نے کیس میں نامزد تین خواتین فراست، تحریم اور نایاب کو بری کرنے کا حکم دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج سانگھڑ عنایت اللہ بھٹو نے جب کیس کا فیصلہ سنایا تو تمام مجرمان عدالت میں موجود تھے جنہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

زینب بھایو کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کے علاقے کھپرو سے ہے، جنہیں 2010 میں مذکورہ افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

متاثرہ لڑکی کے چچا ڈاکٹر امین بھایو نے کھپرو پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں وسیم، سہیل، دانش، جہانزیب سمیت تین رشتہ دار لڑکیوں کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے ساتھ ریپ: سابق کانسٹیبل کو 2 مرتبہ سزائے موت

رپورٹ میں متاثرہ لڑکی کے چچا نے موقف اختیار کیا تھا کہ لڑکی اس وقت نہم جماعت کی طالبہ تھی اور اسے اس کی دوستوں نے ملنے کے لیے (کسی ایک کے) گھر بلایا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ زینب بھایو کو کھانے میں نشہ آور چیز ملا کر کھلائی گئی جس کے بعد وہ اپنے حواس کھوبیٹھیں، تاہم جب وہ ہوش میں آئیں تو انہیں احساس ہوا کہ انہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مذکورہ مجرمان نے اپنی اس بہیمانہ کارروائی کی ویڈیو بنائی جبکہ اسے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر اپ لوڈ بھی کیا۔

انہوں نے رپورٹ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ مجرمان میں سے دانش اور جہانزیب کی ویڈیو کے ذریعے ہی نشاندہی کی گئی تھی۔