بچوں کے ساتھ ریپ: سابق کانسٹیبل کو 2 مرتبہ سزائے موت

31 اکتوبر 2018

ای میل

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی عدالت نے بچوں کے ریپ میں ملوث مجرم کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے 2 مرتبہ سزائے موت سنادی۔

مذکورہ کیس کا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج محمد علی مبین نے سنایا۔

پولیس نے مجرم طیب رضا کاظمی کو بچوں کے ریپ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ننھی زینب کے قاتل عمران کو پھانسی دے دی گئی

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے 3 بچوں کا ریپ کیا تھا اور اس حوالے سے مقدمات 2015 میں درج کیے گئے تھے۔

پولیس نے بچوں کے والدین کی شکایت پر ملزم کو اسی سال گرفتار کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ ملزم پولیس کانسٹیبل تھا جبکہ کیس کی سماعت 3 سال تک جاری رہی۔

عدالت نے فراہم کردہ ثبوتوں پر ملزم پر فرد جرم عائد کی تھی اور عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیئے جانے کے بعد پولیس نے انہیں کوئٹہ کی ضلعی جیل میں منتقل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: بچوں، خواتین سے جنسی زیادتی پر نجی اسکول کے پرنسپل کو 105سال قید

گزشتہ روز پشاور کی سیشن عدالت نے نجی اسکول کے پرنسپل کو بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی، ریپ انہیں زدو کوب کرنے اور قابل اعتراض ویڈیوز بنانے کے جرائم میں ملوث ہونے پر 105 سال قید کی سزا سنادی تھی

سیششن جج یونس خان نے مجرم عطااللہ خان پر 10 لاکھ 40 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ پرنسپل کو حیات آباد پولیس نے ایک طالب علم کی جانب سے 14 جولائی 2017 کو جمع کرائی جانے والی درخواست کے بعد گرفتار کیا تھا۔۔