پاکستانی ٹیم کس طرح سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے؟

اپ ڈیٹ 24 جون 2019

ای میل

سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے پاکستانی ٹیم کو اپنے بقیہ تینوں میچوں میں بھی فتح درکار ہے — فوٹو: اے ایف پی
سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے پاکستانی ٹیم کو اپنے بقیہ تینوں میچوں میں بھی فتح درکار ہے — فوٹو: اے ایف پی

لندن: ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں فتح کی بدولت پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی کا امکان ایک مرتبہ پھر روشن ہوگیا ہے اور اپنے اگلے تینوں میچز میں کامیابی کی بدولت پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔

انگلینڈ کی سری لنکا کے ہاتھوں شکست اور پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں فتح کے بعد قومی ٹیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا ایک مرتبہ پھر امکان پیدا ہو گیا ہے۔

گرین شرٹس نے اب تک ایونٹ میں 6 میچز کھیل کر 2 میں کامیابی حاصل کی، ایک میچ بارش کی نذر ہوا جبکہ تین میں ناکامی کے ساتھ قومی ٹیم کے 5 پوائنٹس ہیں۔

پاکستان کا اپنے اگلے میچ میں اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کی ٹیم سے مقابلہ ہوگا اور اس میچ میں کامیابی سے پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکان کافی روشن ہو جائیں گے کیونکہ گرین شرٹس کا آخری دونوں میچز میں افغانستان اور بنگلہ دیش سے مقابلہ ہو گا۔

سیمی فائنل کھیلنے والی چار ٹیموں میں جگہ بنانے کے لیے کسی بھی ٹیم کو کم از کم 11 پوائنٹس لازمی طور پر حاصل کرنے ہیں اور اپنے بقیہ میچ جیتنے کی صورت میں اس اعتبار سے پاکستانی ٹیم مطلوبہ نمبرز حاصل کر لے گی۔

فتح کے علاوہ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں ہیں لیکن گرین شرٹس کے لیے خوش آئند امر یہ کہ ان دونوں ہی ٹیموں کے آئندہ میچ مضبوط حریفوں سے ہیں۔

پاکستان کے لیے پہلا اور سب سے بڑا خطرہ 8 پوائنٹس کی حامل انگلینڈ کی ٹیم ہے جسے اپنے اگلے میچز میں اب تک ایونٹ کی تینوں بہترین ٹیموں آسٹریلیا، انڈیا اور نیوزی لینڈ کا سامنا کرنا ہے اور کم از کم دو میچوں میں لازمی فتح درکار ہے۔

پاکستان کی جانب سے اپنے چاروں میچز جیت جانے کی صورت میں اگر انگلینڈ ایک میچ میں فتح اور دو میں ناکامی سمیٹتا ہے تو اس کے 10 پوائنٹس ہوں گے، یوں پاکستان ٹیم 11 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرجائے گی۔

انگلینڈ کی ٹیم کے لیے یہ سفر قطعاً آسان نہ ہو گا کیونکہ آسٹریلیا، بھارت اور نیوزی لینڈ تینوں ہی اب تک ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کرتی رہی ہیں۔

پاکستان ٹیم کے لیے دوسرا بڑا خطرہ سری لنکن ٹیم ہے جو اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر 6 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے لیکن سری لنکا کے ایونٹ میں تینوں بقیہ میچز جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور انڈیا کے خلاف ہیں۔

سری لنکا کو سیمی فائنل کھیلنے کے لیے اپنے تمام میچز جیتنا ہوں گے اور کسی ایک میچ میں ناکامی اس کا سیمی فائنل کھیلنے کا خواب چکنا چور کر سکتی ہے اور موجودہ سری لنکن ٹیم کی فارم کو دیکھتے ہوئے تینوں میچ جیتنا کسی معجزے سے کم نہیں۔

پاکستان کی جانب سے بقیہ تینوں میچز میں کامیابی کے بعد اگر سری لنکا تین میں سے 2 میچز جیت جاتا ہے تو اس کے 10 پوائنٹس ہوں گے جس کے ساتھ وہ سیمی فائنل میں جگہ نہیں بناسکے گا اور 11 پوائنٹس کے ساتھ قومی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

پاکستان کی ایونٹ کے تمام میچز میں کامیابی بنگلہ دیش کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کردے گی، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کے لیے خطرہ نہیں لیکن اس کے لیے فتح شرط ہے۔

بنگلہ دیش اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر 6 میچز کھیل کر 5 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے اور اسے سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اپنے تمام 3 میچز جیتنا ہوں گے۔

اگر بنگلہ دیش تینوں میچز جیت جاتا ہے جس میں ایک میچ پاکستان کے خلاف بھی ہے تو بنگلادیش سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرجائے گا اور پاکستان اس دوڑ سے باہر ہو جائے گا جبکہ بصورت دیگر پاکستان سیمی فائنل کھیلے گا۔

افغانستان، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں پہلے ہی سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔