کچھ قسمت نے مارا، کچھ اپنا قصور تھا

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2019

ای میل

سیانے کہتے ہیں کہ قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔

کچھ ناکامیوں کے بعد جب ٹیم پاکستان کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہوئی اور سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے کے لیے بھارت کی انگلینڈ کے خلاف کامیابی کی ضرورت پڑی تو تمام مقابلے جیتنے والا ناقابلِ شکست بھارت دھوکا دے گیا۔

پھر جب نیوزی لینڈ سے امیدیں وابستہ کیں تو ابتدائی 6 مقابلوں میں ناقابلِ شکست رہنے والے کیویز پے در پے شکستیں کھا بیٹھے اور پاکستان کی امیدوں کے سارے چراغ گُل کردیے۔ اب لگتا یہی ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے علاوہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ ہی فائنل 4 تک پہنچی ہیں اور پاکستان کا آگے جانا تقریباً ناممکنات میں سے ہوگیا ہے۔

ویسے میزبان انگلینڈ کی قسمت بھی کمال کی ہے۔ بھارت کے بعد یہاں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بھی ٹاس جیتا اور ان دونوں مقابلوں کی وکٹیں دیکھیں تو ٹاس جیتنا ہی آدھا میچ جیتنے کے مترادف تھا۔ پھر جو بھارت کے ساتھ ہوا، وہی، بلکہ اس سے بھی بُرا نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوا۔

مزید پڑھیے: کرکٹ ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم اور ’اگر مگر‘ کی کہانی

انگلینڈ نے پہلے ٹاس جیتا اور ٹاپ آرڈر کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 30 اوورز میں محض ایک وکٹ کے نقصان پر 194 رنز تک پہنچ گیا۔ یہاں ایسا لگتا تھا کہ 350 رنز تو بنے ہی بنے لیکن نیوزی لینڈ مقابلے کی دوڑ میں کچھ واپس آیا تو ہم پاکستانیوں کے دلوں کو بھی کچھ قرار آیا۔ اگلے 20 اوورز میں انگلینڈ 111 رنز ہی بنا پایا اور یوں نیوزی لینڈ کو ملا 306 رنز کا ہدف۔

لیکن جس ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف 245 رنز کے تعاقب میں 8 وکٹیں گنوا دی ہوں، 242 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ سے بمشکل جیتا ہو بلکہ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ میچ میں محض 157 رنز پر ڈھیر ہوگیا ہو، اس سے 306 رنز کا ہدف حاصل کرنے کی امید لگانا بیکار تھا۔

پھر پاکستانیوں کی حمایت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی قسمت بھی لباس کی طرح کالی ہوگئی۔ ہنری نکولس اپنی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے اور پویلین چل دیے۔ اگر وہ ریویو لے لیتے تو شاید بچ جاتے۔ پھر باہر جاتی ہوئی ایک گیند، جو غالباً وائیڈ ہوجاتی، اس کو مارٹن گپٹل نے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور گیند دستانے کو چھوتے ہوئے نکلی اور انگلش وکٹ کیپر نے ایک ناقابلِ یقین کیچ تھام کر ان کو بھی چلتا کردیا۔

یہی نہیں بلکہ روس ٹیلر کے لگائے گئے شاٹ پر گیند باؤلر مارک ووڈ کی انگلی کو چھوتی ہوئی نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر کین ولیم سن کی وکٹیں بکھیر گئی۔ اس سے بھی بدقسمتی اور کیا ہوگی؟ پھر جب روس ٹیلر بالکل ویسے ہی رن آؤٹ ہوئے جیسے افغانستان کے خلاف سرفراز احمد ہوئے تھے تو حقیقت میں مقابلے اور پاکستان کی امیدوں کا خاتمہ ہوچکا تھا۔

نگلش وکٹ کیپر نے ناقابلِ یقین لے کر گپٹل کو بھی چلتا کیا—تصویر ورلڈ کپ ٹوئٹر پیج
نگلش وکٹ کیپر نے ناقابلِ یقین لے کر گپٹل کو بھی چلتا کیا—تصویر ورلڈ کپ ٹوئٹر پیج

اگر نکولس ریویو لے لیتے تو شاید بچ جاتے—تصویر ورلڈ کپ ٹوئٹر پیج
اگر نکولس ریویو لے لیتے تو شاید بچ جاتے—تصویر ورلڈ کپ ٹوئٹر پیج

پاکستان کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے کا دکھ صرف پاکستانیوں کو ہی نہیں ہے، بین الاقوامی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کو بھی ضرور ہوگا کیونکہ سیمی فائنل یا فائنل میں پاک-بھارت ٹکراؤ کا مطلب ہوتا دولت چھپڑ پھاڑ کر آتی۔

بہرحال، اگر سچے دل سے پوچھیں تو ہمیں پاکستان سے اتنی توقع بھی نہیں تھی۔ جس ٹیم نے ورلڈ کپ سے پہلے اپنے آخری 24 میں سے 18 ون ڈے میچوں میں شکست کھائی ہو اور وارم اپ مقابلوں میں افغانستان تک سے ہار گیا ہو، اس سے بھلا کیا امیدیں رکھی جاسکتی ہیں؟ پھر بھی پاکستان بہت اچھا کھیلا اور اسے قسمت کی خرابی ہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کی جگہ نیوزی لینڈ سیمی فائنل کھیلے گا۔

مزید پڑھیے: قسمت کا مارا جنوبی افریقہ!

یعنی وہ ٹیم جس نے سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ویسٹ انڈیز جیسے کمزور حریفوں کے علاوہ بُرے حال سے دوچار جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابیاں سمیٹیں اور تمام بڑی ٹیموں سے شکست کھائی، یہاں تک کہ پاکستان سے بھی ہاری لیکن پھر بھی فائنل 4 تک پہنچ گئی جبکہ پاکستان انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو ہرا کر بھی باہر ہوگیا۔

وہ کہا جاتا ہے نا کہ ’لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی‘، بس کچھ ایسے ہی لمحے تھے جنہوں نے ورلڈ کپ میں پاکستان کو اس انجام تک پہنچایا۔

سب سے پہلے تو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا مقابلہ کہ جس میں قومی کرکٹ ٹیم صرف 105 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ ایک ایسی ٹیم کے خلاف جو پاکستان کے علاوہ کسی کے خلاف اب تک کوئی میچ نہیں جیت پائی، اس کے ہاتھوں اتنی بدترین شکست کا نتیجہ پاکستان کے بدترین نیٹ رن ریٹ کی صورت میں نکلا۔ یاد رکھیں کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف اپنا آخری میچ جیت جاتا ہے تو اسی نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے وہ سیمی فائنل تک نہیں پہنچ پائے گا۔

کچھ قسمت بھی خراب تھی جیسا کہ سری لنکا کے خلاف مقابلے کا بارش کی نذر ہوجانا پاکستان کی بدقسمتی تھی۔ گوکہ ہمارے شائقین کرکٹ اسے ’92ء کی تاریخ دہرانے‘ کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دے رہے تھے لیکن سری لنکا کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بات کریں تو پاکستان بارش کی وجہ سے ایک قیمتی پوائنٹ سے محروم ہوگیا اور یہ پوائنٹ فیصلہ کن بھی ثابت ہوا۔

مزید پڑھیے: ہارتے ہارتے ہم جیتنا کیسے شروع ہوگئے؟

ایک ایسا مقابلہ جو پاکستان کو جیتنا چاہیے تھا وہ آسٹریلیا کے خلاف تھا۔ اسے آسٹریلیا کی قسمت کہیں یا پاکستانی فیلڈرز کی حرکتیں کہ جنہوں نے پاکستان کو آہستہ آہستہ میچ سے باہر ہی کردیا۔ پاکستان کو آخر میں 35 گیندوں پر 44 رنز کی ضرورت تھی جب سرفراز احمد کی اسٹرائیک سنبھالنے میں ناکامی نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا۔

یہ 3 مرحلے ایسے تھے جنہوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان نہیں بلکہ نیوزی لینڈ سیمی فائنل کھیلے گا۔ اب ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے کے آخری چاروں میچ نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ ہاں! اگر پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 350 رنز بنا ڈالے اور پھر بنگلہ دیش کو صرف 38 رنز پر ڈھیر کردے تو اس کا رن ریٹ نیوزی لینڈ سے آگے نکل سکتا ہے یا پھر 400 رنز بنا کر بنگلہ دیش کو 84 رنز پر آل آؤٹ کردے تو۔ لیکن اگر بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرلی تو؟ تو یہ موہوم سی امید بھی ختم ہی سمجھیں۔