ای میل

قسمت کا مارا جنوبی افریقہ!

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ میں کارکردگی کا تسلسل ہی سب کچھ ہے اور قسمت کا یا تو سرے سے کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں یا پھر بہت معمولی ہے تو اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیں کیونکہ پچھلے 10 سالوں میں پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور چیمپیئنز ٹرافی کی صورت میں 2 بڑے اعزازات جیتے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کسی بھی عالمی ٹائٹل سے محروم رہا۔

ورلڈ کپ 2019ء کے لیے آنے سے قبل ان دونوں کی کارکردگی دیکھیں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ کہاں مسلسل 5 ون ڈے سیریز جیت کر ورلڈ کپ میں آنے والی جنوبی افریقی ٹیم اور کہاں ورلڈ کپ سے قبل اپنے 23 میں سے 16 میچز ہارنے والی قومی ٹیم۔

لیکن ان تمام تر کارکردگی کے باوجود ورلڈ کپ 2019ء میں حال یہ ہے کہ بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، انگلینڈ بلکہ بنگلہ دیش تک سیمی فائنل میں جگہ پانے کے لیے جتن کر رہے ہیں، جبکہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کو اس بات کی فکر ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے میں باہر ہونے کے بعد اب کیا ہوگا؟

مزید پڑھیے: پاکستان کی ورلڈکپ میں واپسی، جنوبی افریقہ ایونٹ سے باہر

بلاشبہ ہر ورلڈ کپ کی طرح اس بار بھی جنوبی افریقہ فیورٹ ٹیموں میں شامل تھا۔ بیشتر ماہرینِ کرکٹ کا خیال تھا کہ آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ کے علاوہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں سے کوئی ایک ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچے گا لیکن حیران کن طور پر افغانستان کے بعد جو ٹیم سب سے پہلے اس اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوئی، وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم ہی تھی۔

یعنی 1992ء، 1999ء، 2007ء اور 2015ء میں سیمی فائنل اور 1996ء اور 2011ء میں کوارٹر فائنل کھیلنے والی ٹیم اب 2003ء کے بعد دوسری مرتبہ پہلے ہی مرحلے میں 'بے آبرو ہوکر' نکلے گی۔

2003ء میں ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے سے اخراج کا سبب تو خراب قسمت تھی کیونکہ سری لنکا کے خلاف اہم مقابلہ بارش کی وجہ سے ٹائی ہوگیا تھا اور یوں جنوبی افریقہ قیمتی پوائنٹ سے محروم ہوکر اپنے ہی ملک میں ہونے والے ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ لیکن اس مرتبہ تو غالباً پہلی بار جنوبی افریقہ اپنی بدترین کارکردگی کی وجہ سے باہر ہوا ہے اور یہ صرف جنوبی افریقہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے مایوس کن بات ہے۔

جنوبی افریقہ نے ورلڈ کپ 1992ء کے ذریعے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا تھا۔ 22 سال کی پابندی بھگتنے کے بعد دنیائے کرکٹ میں واپس آتے ہی اس ٹیم نے سب کو حیران کردیا تھا۔ ان کی جاندار بیٹنگ، شاندار باؤلنگ اور سب سے بڑھ کر دَم دار فیلڈنگ دیکھ کر تو یقین نہیں آتا تھا کہ کرکٹ ایسے بھی کھیلی جاتی ہے؟ ایلن ڈونلڈ کی وکٹ توڑ گیندیں اور جونٹی رہوڈز کی فیلڈنگ نے سب کا دل موہ لیا تھا۔ تب سے آج تک دنیائے کرکٹ کے کونے کونے میں جنوبی افریقہ کے مداح موجود ہیں۔ اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اے بی ڈی ویلئیرز اور ہاشم آملا پاکستان میں بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

لیکن اتنی صلاحیت اور عوام سے ملنے والی اتنی محبت بھی جنوبی افریقہ کی قسمت کو نہ بدل پائی۔

ان نتائج کو دیکھنے کے بعد یہ بات بہت ہی آرام سے کہی جاسکتی ہے کہ بڑے مقابلے میں اس ٹیم کے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں لیکن اس بار تو بڑے میچز تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔

مزید پڑھیے: پبلشنگ پارٹنر 1992اور 2019 ورلڈ کپ میں حیران کن مماثلت، ناقابل شکست نیوزی لینڈ پھر ہار گیا

ورلڈ کپ 2019ء میں جنوبی افریقہ نے آغاز ہی میں میزبان انگلینڈ کے ہاتھوں بدترین ناکامی کا مزا چکھا۔ پھر بنگلہ دیش اور بھارت کے ہاتھوں پے در پے شکستیں کھائیں اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے سے اس کی حالت بدترین ہوگئی۔ ورلڈ کپ 2019ء میں اپنی پہلی کامیابی افغانستان کے خلاف سمیٹنے کے بعد اگر کچھ امکان پیدا بھی ہوا تو نیوزی لینڈ اور پاکستان نے اگلے میچوں میں پے در پے شکست دے کر اس کا خاتمہ کردیا۔ یوں جنوبی افریقہ ورلڈ کپ کے اکھاڑے سے ایک مرتبہ پھر باہر پھینک دیا گیا۔

کاغذ پر دیکھیں تو ہمیں جنوبی افریقہ ایک مضبوط دستے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہی کوئنٹن ڈی کوک اور ہاشم آملا اوپنرز ہیں جو عرصہ دراز سے دنیا کی خطرناک ترین جوڑی سمجھے جاتے ہیں۔ وہی کپتان فاف دیوپلیسی مڈل آرڈر میں موجود ہیں جو دنیا کے 10 بہترین ون ڈے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ تجربہ کار جے پی ڈومنی اور ڈیوڈ ملر بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں اور باؤلنگ میں کگیسو ربادا اور عمران طاہر ہیں جو ون ڈے کے بہترین باؤلرز ہیں۔ پھر اتنی بُری طرح شکست سمجھ سے بالاتر ہے، لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ناکامی کی وجوہات لاکھوں ہوتی ہیں، جتنا کریدتے جائیں یہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ اس لیے جنوبی افریقہ کو ورلڈ کپ کے بعد بہت کچھ دیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔

ورلڈ کپ 2003ء میں شکست کے بعد جنوبی افریقہ کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ صرف 22 سال کے گریم اسمتھ کو کپتان بنا دیا گیا، جو اگلے 11 سال تک اس عہدے پر موجود رہے اور ملکی تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک بنے، وہ الگ بات کہ ورلڈ کپ سمیت کوئی عالمی اعزاز ان کے ہاتھ بھی نہیں لگا۔ اب جبکہ ورلڈ کپ 2019ء میں ناکامی کی بنیادی وجہ بدترین کارکردگی ہے، تو یہ بات تو طے ہے کہ آپریشن کلین اَپ ہونے والا ہے۔ بس ذرا ورلڈکپ ختم ہو لے، پھر دیکھیے گا۔