عراق میں ترک سفارت کار قتل

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

ترک سفارت خانے پر فائرنگ کا واقعہ اربیل میں پیش آیا—فوٹو:اے پی
ترک سفارت خانے پر فائرنگ کا واقعہ اربیل میں پیش آیا—فوٹو:اے پی

عراق میں کردوں کے خود مختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں مسلح شخص کی فائرنگ سے ترکی کے نائب قونصلر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘اربیل میں ایک ریستوران میں مسلح افراد کے حملے میں ترک قونصل خانے کے ملازمین اور نائب قونصلر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے’۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ عینکاوا میں واقع ترک قونصل خانے اور مشہور ریستورانوں کی طرف جانے والے راستوں میں چیک پوائنٹس قائم کر دیئے گئے ہیں۔

ترک حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربیل میں واقع قونصل خانے کا ایک ‘ملازم’ فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں:ترک فوج کی کرد جنگجووں کے خلاف عراق میں کارروائی

حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

ترکی نے قونصل خانے کے عہدیدار کے قتل پر ردعمل میں اس کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے کردوں کی اکثریت کے حامل عراق کے پہاڑی علاقوں میں کردش ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے مورچوں پر فوجی کارروائی کی جارہی ہے۔

ترکی، امریکا اور یورپی یونین کے دیگر ممالک نے'پی کے کے' کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس پر ترکی میں 1984 سے بغاوت پھیلانے کا الزام ہے، جبکہ اس کی بنیادیں عراق کے خود مختار کرد علاقوں میں ہیں۔

عراق میں دارالحکومت بغداد کے ‘گرین زون’ میں حالیہ مہینوں میں امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے سفارت خانوں کے قریب متعدد مرتبہ راکٹوں سے حملے کیے گئے تھے۔

امریکا نے رواں برس مئی میں بغداد اور اربیل میں اپنے سفارت خانے کے غیر اہم ملازمین کو واپس بلالیا تھا، بعد ازاں جون میں بغداد میں بحرین کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرین بھی جمع ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں کرد جنگجووں کے خلاف نیا آپریشن ہوگا، اردوان

دوسری جانب 2017 میں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فتح حاصل کرنے کا اعلان کرنے والے عراقی حکام نے غیر ملکی سفارت خانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے 29 مئی کو کرد جنگجووں کے خلاف پہلی مرتبہ زمینی کارروائی کے لیے عراق کی شمالی سرحد پر واقع پہاڑیوں میں فوجیوں کو اتارنے کا اعلان کیا تھا جبکہ فضائی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور اسلحہ خانے کو تباہ کردیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن ترک سرحد سے ملحق عراق کے علاقے ہرکوک میں کیا گیا جہاں سے ایران کی سرحد بھی ملتی ہے جبکہ کردش ورکرز پارٹی کے دہشت گردوں کا عراق کے شمالی علاقے میں مرکز ہے۔

ترک حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں اور ہرکوک میں موجود دہشت گردوں کے اثر کو ختم کرنا تھا۔