شام میں کرد جنگجووں کے خلاف نیا آپریشن ہوگا، اردوان

13 دسمبر 2018

ای میل

ترک صدر نے امریکا کو ترک دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام دے دیا—فوٹو:اے پی
ترک صدر نے امریکا کو ترک دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام دے دیا—فوٹو:اے پی

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ شام میں لڑنے والے امریکی حمایت یافتہ کرد باغیوں کے خلاف نیا فوجی آپریشن شروع کیا جائے گا جس کے بعد نیٹو ممالک سے ترکی کے تعلقات پر اثر پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اردوان کا کہنا تھا کہ ‘ہم فرات کے مشرقی حصے کو علیحدگی پسند گروپس سے بچانے کے لیے چند دنوں میں آپریشن شروع کریں گے’۔

انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارا ہدف امریکی فوجی نہیں ہیں، یہ ایک دہشت گردی تظیم ہے جو خطے میں متحرک ہے’۔

ترک صدر نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ اس حوالے سےدیانت دار نہیں ہیں، انہوں نے تاحال مانبج سے دہشت گردوں کو ختم نہیں کیا اس لیے ہم خود کریں گے’۔

مزید پڑھیں:کرد باغیوں سے روابط پر ترکی کی امریکا پر تنقید

اردوان کی طرف سے یہ اعلان دفاعی صنعت کے حوالے سے ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا جس کا مقصد شمالی شام میں ترکی کی شکایات کےباوجود امریکا کی جانب سے قائم کی گئی پوسٹ کا جائزہ لینا تھا۔

ترکی کا موقف ہے کہ امریکی پوسٹس کا مقصد کرد ملیشیا وائی پی جی کو تحفظ دینا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹس ترکی کے تحفظات کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

طیب اردوان نے کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ریڈار اور پوسٹس قائم کرنا ہمارے ملک کو دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ دہشت گردوں کو ترکی سے محفوظ رکھنا ہے’۔

پینٹا گون کے ترجمان ایرک پہون کا کہنا تھا کہ ‘سیکیورٹی کے حوالے سے ترکی کے تحفظات سنجیدہ ہیں اور ہم شمال مشرقی شام میں استحکام لانے کے لیے ترکی کے ساتھ ہیں اور ہم صرف مقصد کی نگرانی کررہے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:ترک فوج کا شام میں علیحدگی پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کا آغاز

ترک سرکاری نیوز ایجنسی اناطولو کے مطابق ترکی نے گزشتہ دو روز میں فوجی اور عسکری حرب کو شام سے منسلک سرحد پر پہنچا دیا ہے۔

یاد رہے کہ ترک فوج نے 2016 اور رواں سال کے اوائل میں بھی کردوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں اور انہیں فرات کے مغربی علاقے میں پیچھے دھکیل دیا تھا۔

ترک فوج کا کہنا تھا کہ وائی پی جی کی جانب سے عفرین میں مہاجرین کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کو ترکی پہلے ہی دہشت گرد تنظیم گردانتا رہا ہے جبکہ اسی طرح کے حملے ایک روز قبل بھی کیے گئے تھے۔

ترکی کی جانب سے وائی پی جی کو شام کی کردستان ورکرز پارٹی کی ذیلی تنظیم ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے جو ترکی کے جنوبی علاقوں میں دہائیوں سے بغاوت کی تحریک میں شامل ہے جبکہ اس کو ترکی کے علاوہ مغربی طاقتیں بھی دہشت گرد گروپ تسلیم کرچکے ہیں۔

وائی پی جی شام میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ میں نیٹو کے رکن امریکا کی اتحادی رہی ہے اور شام میں ان کے مضبوط گڑھ کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔