امریکا کا توہین مذہب کے الزام میں گرفتار پروفیسر کی رہائی کیلئے پاکستان پر زور

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2019

ای میل

مائیک پینس نے مذہبی آزادی سمٹ سے خطاب میں یہ مطالبہ کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
مائیک پینس نے مذہبی آزادی سمٹ سے خطاب میں یہ مطالبہ کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان کے 21 سے 24 جولائی تک دورہ واشنگٹن سے ایک روز قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کو رہا کرے۔

واشنگٹن میں مذہبی آزادی سمٹ سے خطاب میں مائیک پینس نے آرٹریا، موریطانیا، پاکستان اور سعودی عرب میں ’مذہبی مخالفین‘ کے حراست میں ہونے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بلاگر ریف باداوی کو رہا کرے، جنہیں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں 2014 میں 10 سال جیل کی سزا دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص پر مقدمہ

ساتھ ہی امریکی نائب صدر نے سمٹ میں آئے دنیا بھر سے سیکڑوں وفد کی موجودگی میں کہا کہ ’’پاکستان میں پروفیسر جنید حفیظ توہین مذہب کے غیرتصدیق شدہ الزامات پر قید تنہائی میں ہیں‘‘ جبکہ ’’سعودی عرب میں بلاگر ریف باداوی ’الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے اسلام پر تنقید‘ کرنے کے مبینہ جرم کے لیے جیل میں موجود ہے‘‘۔

مائیک پینس نے کہا کہ ’ناقابل تصور دباؤ کے باوجود یہ چاروں افراد اپنے عقیدے کی مشق میں مذہبی آزادی کے دفاع میں کھڑے ہوئے‘۔

ان قیدیوں کو یہ یقین دہانی کرواتے ہوئے کہ امریکی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’آج امریکا ارٹریا، موریطانیا، پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان افراد کے حقوق کا احترام کرے اور انہیں جانے دیں‘۔

دوران گفتگو مائیک پینس نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر میانمار، چین، ایران اور وینزویلا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: توہین مذہب کےمعاملے پر کسی بے گناہ کا نقصان نہیں ہونا چاہیے، صدر مملکت

انہوں نے کہا کہ ’ہم برما میں پریشان روہنگیا لوگوں کے لیے کھڑے ہیں اور ہم مسلم اور مسیحی اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بدھ مت انتہاپسندی کو نظرانداز نہیں کرسکتے‘۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ روہنگیا لوگوں کے خلاف نسل کشی کی سفاکانہ مہم نے 7 لاکھ سے زائد لوگوں کو سرحد پار بنگلہ دیش جانے پر مجبور کردیا، ’اگرچہ امریکا برمی حکومت پر مسلسل زور دے رہا کہ تمام ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے لیکن حکومت کا بے گناہ مرد اور خواتین کو ہراساں اور قید کرنے کا سلسلہ جاری ہے‘۔

قبل ازیں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے روہنگیا کے ساتھ ’انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نسل کشی‘ پر میانمار کے 4 بڑے جنرلز پر پابندی لگادی تھی، اس پابندی کا شکار ہونے والوں میں ملٹری کمانڈر ان چیف من آنگ ہلینگ، ان کے نائب سوئی ون، بریگیڈیئر جنرل تھان او اور بریگیڈیئر جنرل آنگ آنگ شامل ہیں۔


یہ خبر 20 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی