توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص پر مقدمہ

اپ ڈیٹ 12 مئ 2019

ای میل

توہین مذہب کا مقدمہ آبپارہ تھانے میں درج کیا گیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
توہین مذہب کا مقدمہ آبپارہ تھانے میں درج کیا گیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو مقدمے میں نامزد کرلیا۔

آبپارہ پولیس کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر توہین مذہب سے متعلق ریمارکس پوسٹ کئے تھے۔

مذکورہ مقدمہ آبپارہ تھانے میں عبدالرحمٰن معاویہ نامی شخص کی شکایت پر درج کیا گیا۔

ملزم کے خلاف درج مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 بی، 295 سی اور 298 اے کو شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے فیس بک پر اپنی آئی ڈی کے ذریعے متعدد اسلامی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات پوسٹ کیے تھے۔

شکایت گزار کی جانب سے ملزم کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ ملزم کے اقدام سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔

ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کے اس توہین آمیز رویے سے نقص امن کا معاملہ بھی سامنے آسکتا تھا۔

آبپارہ تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات کا جلد آغاز کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 11ویں خلیفہ کا دعویٰ کرنے والا شخص توہین مذہب کے الزام میں گرفتار

خیال رہے کہ مذکورہ کیس سینئر افسران کو بھجوایا گیا ہے تاکہ ان سے پولیس تحقیقات یا اسے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کرنے کی اجازت لی جاسکے کیونکہ یہ معاملہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس کیس کی تحقیقات میں پولیس کو ایف آئی اے کی مدد درکار ہوگی۔


یہ رپورٹ 12 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی