پاکستان نے سی پیک قرضوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا، آئی ایم ایف

06 اگست 2019

ای میل

آئی ایم ایف کی رہائشی عہدیدار ٹریسا ڈبن سانشیز نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کی — تصویر: ڈان اخبار
آئی ایم ایف کی رہائشی عہدیدار ٹریسا ڈبن سانشیز نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کی — تصویر: ڈان اخبار

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ انہیں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں اور ان کی شرائط تک مکمل رسائی حاصل ہوئی ہے جبکہ یہ قرضے قابلِ انتظام ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل پریس کلب میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی رہائشی عہدیدار ٹریسا ڈبن سانشیز نے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)، صوبائی اخراجات کے رجحانات اور پارلیمان میں حکومت کی اکثریت نہ ہونے کے سبب 39 ماہ پر محیط 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کو لاحق خطرات کے حوالے سے گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو سی پیک قرضوں کی تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا تھا، سی پیک کا منصوبہ توانائی اور انفرا اسٹرکچر میں زیادہ تر نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پیکج: پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے

ایک سوال کے جواب میں آئی ایم ایف عہدیدار کا کہنا تھا کہ توانائی کے منصوبوں نے بلا شبہ ملک میں بجلی کی کمی سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے، جو ان منصوبوں کا ایک بہت مثبت پہلو ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قرض کے استحکام سے متعلق تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ سی پیک کی مد میں لیے گئے قرضے قابلِ انتظام تھے لیکن مجموعی طور پر ملکی قرضوں کی صورتحال مستحکم نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مالی استحکام، ریونیو کی نقل و حرکت، مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ اور سماجی شعبے کا تحفظ نئے آئی ایم ایف پروگرام کے 3 بنیادی ستون ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج، پاکستانی معیشت کی بحالی یا پھندا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ مالی استحکام ریونیو سے متعلق ہونا چاہیے تاکہ مالی خسارے کے مسائل سے نمٹا جاسکے کیوں کہ ملکی مجموعی پیداوار کی شرح میں ٹیکس کا حصہ بہت کم ہے جسے ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات ختم کر کے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف عہدیدار نے کہا کہ صوبوں کے درمیان بہترین تعاون کی شدید ضرورت ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اخراجات کم کرکے وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن میں تبدیلی کے لیے آئی ایم ایف نے کوئی شرط نہیں رکھی لیکن صوبوں اور وفاق کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کی دستاویز میں وفاق کے تحت مالی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے (ن) لیگ، پی ٹی آئی کو ناقص پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرادیا

آئی ایم ایف پروگرام کی چیدہ چیدہ اصلاحات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سرکاری شعبے میں مالی نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے مالیاتی انتظام کا نفاذ، مرکزی بینک کی خود مختاری، توانائی کے شعبے کی بہتری، انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو تقویت دینا اور ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹیز کی قیمتوں میں اضافہ ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کیوں کہ اس سے توانائی کے پورے شعبے میں گردشی قرضوں میں اضافہ اور لیکویڈٹی رک جاتی ہے جبکہ حکومت مزید قرض لینے پر مجبور ہوجاتی ہے اس کا اثر مجموعی سرکاری قرضوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی جی ڈی پی کے 80 فیصد کی خطرناک سطح تک جاپہنچا ہے۔

انہوں نے کہا بدقسمتی سے پاکستان نے 1958 سے اب تک 18 آئی ایم ایف قرضے حاصل کیے اور 2013-2016 کا واحد پروگرام تھا جو مکمل ادائیگی کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔

مزید پڑھیں: ’ ملک میں آئی ایم ایف کی شرائط خفیہ طور پر مسلط نہ کی جائیں‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو اور ترقی پر مختصر عرصے کے لیے دباؤ رہے لیکن آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معیشت کا استحکام ہے، طویل مدتی بنیادوں پر افراط زر میں کمی اور ترقی رفتار پکڑنا شروع ہوجائے گی۔