آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2019

ای میل

آئی ایم ایف نے 3 برس کے لیے قرض کی منظوری دی ہے—فائل/فوٹو:رائٹرز
آئی ایم ایف نے 3 برس کے لیے قرض کی منظوری دی ہے—فائل/فوٹو:رائٹرز

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔

آئی ایم ایف کے ترجمان گیری رائس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے معاشی منصوبے میں تعاون کے لیے تین برس کے دوران 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مقصد ملک کی معیشت میں مستقل بڑھوتری اور معیار زندگی کو بہتر کرنا ہے’۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے معاشی اصلاحاتی منصوبے میں تعاون کے لیے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری دے دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا منصوبہ معاشی عدم توازن کو کم کرکے بڑھوتری کا ہے، کمزور طبقے کے مکمل تحفظ کے لیے سماجی سطح پر اخراجات کو مستحکم کیا گیا ہے’۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘ایک ایسا اصلاحاتی نظام جس میں حکومت کی مالی حالت کو بہتر بنانے سمیت ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے قرضوں میں کمی لانا ہمارے پروگرام میں شامل ہے’۔

آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘یہ قرض ملک اور حکومت کے فائدے میں ہے تاکہ ملک کی مالی صورت حال کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشی انتظام کو یقینی بنانا ہے’۔

خیال رہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد 12 مئی کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر سے زائد قرض ملے گا جس سے ملک میں معاشی اصلاحات کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ

پی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ ‘آئی ایم ایف میں جانے سے پاکستان کو جو فائدے نظر آرہے ہیں اس میں 3 سال کے عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملیں گے اور اس سے متعلق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے ہمیں تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملے گی’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں’۔

ایک سوال پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ قرض 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر کا ہے’۔

آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہیے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم امیر لوگوں کو سبسڈی دیں اور اس کو روکیں اور ان سے ٹیکس زیادہ لیں تاکہ پورے ملک کا فائدہ ہو، تو ایسی باتیں آئی ایم ایف بھی کہہ رہا لیکن یہ ہمارے مفاد میں بھی ہیں’۔

عبدالحفیظ شیخ کے مطابق ‘کئی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے اندر کافی عرصے سے نہیں ہوئیں اور یہ ایک موقع ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے پروگرام کرنے جارہے ہیں اور ہم ان مسائل، جن کو اسٹرکچرل مسائل کہا جاتا ہے یعنی دیکھیں کہ پاکستان میں ہر دور میں مسلسل برآمدات نہیں بڑھ سکیں، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکی، سرکاری ادارے ویسے ہی رہے، ریونیو کبھی بھی اچھے انداز میں نہیں بڑھا سکے ہیں’۔