شام میں جنگی جرائم: امریکا نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

اقوام متحدہ کے مطابق  امریکی فضائی حملوں کے وقت بے پرواہی کا مظاہرہ کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی
اقوام متحدہ کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے وقت بے پرواہی کا مظاہرہ کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن نے جنگ زدہ ملک شام میں ’جنگی جرائم‘ کے مرتکب ہونے والے امریکی فضائی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندہ جیم جیفری نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’امریکی اتحادی فورسز کے فضائی حملوں میں عسکری اہداف اور شہریوں کے درمیان فرق کے لیے ضروری احتیاط کو خاطر میں نہیں لایا گیا‘۔

مزیدپڑھیں: ‘عراق و شام میں امریکی فضائی حملوں سے 1300 شہری ہلاک ہوئے‘

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے کمیشن نے امریکی فضائی حملوں سے متعلق تحقیقات کی تھی اور بتایا کہ اتحادی فورسز نے رواں برس جنوری میں شام کے جنوبی صوبے میں متعدد فضائی حملے کیے اور ان فضائی حملوں میں ایک حملے میں 16 شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

کمیشن کے پیش کردہ حقائق میں بتایا گیا کہ امریکی اتحادی فورسز عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ضروری ہدایات کو اپنانے میں مکمل ناکام رہے۔

کمیشن نے بتایا تھا کہ ’اندھا دھند حملوں کے نیتجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے اور ان کی تعداد اتنی ہے کہ یہ حملے جنگی جرائم کے مرتکب ہیں‘۔

رپورٹ میں اقرار کیا گیا کہ ’فضائی حملے کے وقت بے پرواہی کا مظاہرہ کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: شام: امریکی فضائی حملے میں بچوں سمیت 16 افراد ہلاک

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی گزشتہ رپورٹ میں شام میں امریکی حملوں کو جنگی جرائم کے مرتکب قرار دیا تھا۔

جینیوا میں شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندہ جیم جیفری نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم عسکری آپریشن کرتے وقت انتہائی احتیاط برتتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اقوام متحدہ کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتے‘۔

واضح رہے کہ یکم جون کو امریکی اتحادی فورسز نے تسلیم کیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف گذشتہ 5 سال کے عرصے میں عراق اور شام میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں ’غیرارادی‘ طور پر 13 سو سے زائد شہری بھی ہلاک ہوئے۔

اتحادی فورسز کے اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی اتحادی فورسز نے اگست 2014 سے اپریل 2019 کے درمیانی عرصے میں 34 ہزار 502 فضائی حملے کیے۔

مزیدپڑھیں: شام: امریکی اتحادی افواج کا فضائی حملہ، شہریوں سمیت 54 ’داعش جنگجو‘ ہلاک

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی) نے امریکی اتحادی فورسز کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت سے متعلق پیش کردہ اعداد وشمار کو مشکوک قرار دیا تھا۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے اے آئی نے کہا تھا کہ فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد امریکی دعوے سے کہیں زیادہ ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ایمنسٹی اور فضائی حملوں کے نگراں ادارے ایئروار نے انکشاف کیا تھا کہ شام کے شہر رقہ میں گزشتہ 4 ماہ کے دران امریکی اتحادی فورسز کے حملوں میں تقریباً 16 سو شہری لقمہ اجل بنے۔

غیر سرکاری ادارے ایئروار کے مطابق امریکی اتحادی فورسز کے حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار 900 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزیدپڑھیں: شام میں خانہ جنگی: 24 گھنٹوں میں بچوں سمیت 120 افراد جاں بحق

لندن میں فعال سیرن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق صرف شام میں اتحادی فوجیوں کے فضائی حملوں میں 3 ہزار 800 شہری جاں بحق ہوئے۔