شام میں خانہ جنگی: 24 گھنٹوں میں بچوں سمیت 120 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 مارچ 2018

ای میل

بیروت: شامی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 120 شہری لقمہ اجل بن گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق کے بازار میں باغیوں کی گولہ باری سے بچوں اور خواتین سمیت 44 افراد جاں بحق ہوئے۔

شمالی جنوب میں باغیوں کے زیر انتظام صوبے فار بیٹھک گاؤں پر شامی فورسز کی فضائی کارروائی میں 16 بچوں سمیت 21 افراد چل بسے۔

یہ پڑھیں: شام: فورسز کی مشرقی غوطہ میں بمباری، مزید 70 افراد ہلاک

اس حوالے سے بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمر 7 سے 10 برس تھی جو مقامی اسکول میں پڑھنے کے لیے جار رہے تھے ۔

سماجی رکن رگدا گھنوم نے بتایا کہ 4 نوعمر لڑکوں سمیت بچوں نے شامی فورسز کے جنگی طیاروں کی آواز سن کر قریب میں واقع ایک غار میں پناہ لی جہاں حملہ کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود 16 بچوں سمیت 21 متاثرین پر مشتمل فہرست فراہم کر چکی ہیں۔

اسی دوران شامی فورسز نے غوطہ کے جنوبی علاقے ڈوما میں باغیوں فوجیوں پر شیلنگ اور فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 56 شہری جاں بحق ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان فورسز کی کارروائی، طالبان کا جرمن ’عسکری مشیر‘ گرفتار

برطانیہ میں موجود شامی مبصر گروپ نے بھی کے فار بیٹھک گاؤں میں فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شامی فورسز کی بمباری سے 20 افراد جاں بحق ہوگئے ۔

شامی مبصر گروپ کے مطابق دمشق کے بازار پر حملے میں 11 حکومتی فوجیوں سمیت 43 شہری جاں بحق ہوئے۔

بازار پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیو میں چاروں سمت لاشوں کے انبار اور شہریوں کو چیخ و پکار دیکھی جا سکتا ہے۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد اہتمام حسینی نے الخبرایہ ٹی وی کو بتایا کہ مارٹرحملے میں 35 زخمی ہوئے جس میں سے 6 کی حالات تشویش ناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد میں بچوں اور خواتین مشتمل ہیں۔

ڈوما میں حملہ

شام میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی تنظیم وائٹ ہیلمٹ کے ترجمان کے مطابق شامی فورسز کی گولہ باری سے غوطہ کے جنوبی علاقے ڈوما میں 56 شہری جاں بحق ہوئے۔

وائٹ ہیلمٹ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وائٹ ہیلمٹ کے رضاکار گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ڈوما کی ایک بلڈنگ سے شہریوں کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: شام میں خانہ جنگی: ایران، ترکی کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا خطرہ

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق غوطہ میں خانہ جنگی سے 45 ہزارشہری نقل مقانی کر چکے ہیں۔

اس سے قبل اسی خطے میں 4 لاکھ شامی فورسز اور باغیوں کے مایبن لڑائی میں پھس گئے تھے، 2012 میں باغیوں نے غوطہ میں پہلی بارقبضہ کیا تھا۔


یہ خبر 22 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی