نیب نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو تحقیقات کیلئے طلب کرلیا

17 ستمبر 2019

ای میل

مراد علی شاہ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
مراد علی شاہ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مشکوک ذرائع اور عہدیداروں کے ذریعے مبینہ طور پر شوگر ملز کو سبسڈیز دینے پر تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔

نیب عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو نیب کراچی کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے جو منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کررہی تھی۔

ڈان کو جے آئی ٹی سے باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ جب چار یا پانچ شوگر ملز کو دی گئی سبسڈیز کا معاملے پیش آیا تو ٹیم اراکین کے درمیان اختلاف بھ سامنے آیا تھا کیونکہ چند اراکین کا خیال تھا جے آئی ٹی کو صرف جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اس لیے یہ معاملہ ہماری حدود سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں:نیب کی وزیراعلیٰ سندھ سے ٹھٹہ، دادو شوگر ملز کی نیلامی پر تفتیش

بعد ازاں شوگر ملز سبسڈیز کے حوالے سے تفتیش کے لیے نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان منگی کی جانب سے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں سی آئی ٹی نے ان کو 50 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ دیا تھا جس میں ٹھٹہ شوگر مل اور دادو شوگر مل کی فروخت سے متعلق سوالات بھی موجود تھے۔

اس کے علاوہ سی آئی ٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سے گزشتہ دورِ حکومت میں بطور صوبائی وزیرِخزانہ اومنی گروپ کے لیے ایک ارب روپے کی سبسڈی منظور کرنے سے متعلق بھی سوالات کیے تھے۔

کیس کے حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ جب مراد علی شاہ سندھ کے وزیرخزانہ تھے تو انہیوں مبینہ طور پرٹھٹہ شوگرملز اور دادو شوگر ملزسمیت مخصوص شوگر ملز کو سبسڈیز دیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری، حکومتِ سندھ بحران کا شکار

نیب کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کونورآباعد پاورپراجیکٹ کیس میں بھی تفتیش کا سامنا ہے جس کے حوالے سے 3 افراد پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں جن میں سندھ اینگرو کول مائننگ کے چیئرمین خورشید جمالی، سی ای او ٹیکنومین کنیٹک پرائیویٹ لمیٹڈ سید آصف محمود اور ڈائریکٹر نوری آباد پاور کمپنی سید عارف علی شامل تھے۔

نیب کے مطابق تینوں عہدیداروں کو ٹیکنومین کنٹیک پرائیویٹ لمیڑڈ اور سندھ نوری پاور کمپنی اور سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) کو غیر قانونی مراعات دینے کا الزام تھا جس سے قومی خزانہ کو ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کانقصان پہنچا۔

یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی کابینہ کو رواں برس کے آغاز میں آگاہ کیا گیا تھا کہ پاورپلانٹ سے 6 ارب 62 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔