‘آئی ایم ایف پروگرام میں محض 3 مہینے بعد تبدیلی ممکن نہیں‘

17 ستمبر 2019

ای میل

جہاد ازعود نے کہا کہ پروگرام کی شروعات اچھی رہی تاہم ابھی مختصر وقت گزرا ہے—فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
جہاد ازعود نے کہا کہ پروگرام کی شروعات اچھی رہی تاہم ابھی مختصر وقت گزرا ہے—فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے 6 ارب ڈالر پر مشتمل آئی ایم ایف پروگرام خود تشکیل دیا تاہم اب اس کے مقررہ کردہ اہداف میں محض 3 مہینے گزرنے کے بعد تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

خیال رہے کہ جہاد ازعور 8 رکنی وفد کے ہمراہ اعلیٰ حکومتی اداروں کے افسران سے بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔

مزیدپڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 70 فیصد تک کمی لائے ہیں، حفیظ شیخ

اس حوالے سے وزارت خزانہ کے نمائندے نے کہا تھا کہ جہا ازعور کی سربراہی میں وفد اور مشن چیف برائے پاکستان ارنستو رامیریز ریگو 'شیڈول کے مطابق یہاں پروگرام کی نظر ثانی' کے لیے موجود ہیں، بعد ازاں اس وفد نے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

جہاد ازعود نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پروگرام کی شروعات اچھی رہی تاہم ابھی انتہائی مختصر وقت گزرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پروگرام کے طے شدہ اہداف میں جزوقتی کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی‘۔

جہاد ازعود نے کہا کہ ملک میں موجودہ معاشی عدم توازن میں استحکام لانے کے لیے بہتر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے مطابق ملکی معیشت کی سمت درست ہے، اسد عمر

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پروگرام کو شرائط کے مطابق جاری رکھنے پر عزم کا اظہار کیا تھا اور یقیناً اس طرح ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔

آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا کے ڈائریکٹر نے بتایا محصولات میں 30 فیصد اضافے سے متعلق وفاقی بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اصلاحات کی نیت سے پروگرام کے تحت اٹھائے گیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کے لیے آیا ہوں۔

جہاد ازعود نے بتایا کہ ’پروگرام صحیح سمت کی طرف گامزن ہے‘۔

مزیدپڑھیں: آئی ایم ایف کا وفد پروگرام کارکردگی پر نظر ثانی کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان اور تاجر برادری سے ملاقات کا عندیہ بھی دیا۔

ایک سوال کے جواب میں ایم آئی ایف کے وفد کے سربراہ نے کہا کہ ’تیل کی برآمد کنندہ ممالک کے لیے مسقتبل غیر یقینی سے دوچار ہے تاہم ایسے ممالک توانائی کے لیے تیل پر کم انحصار کریں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد اکتوبر یا نومبر کو دورہ کرے گا۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پروگرام کے اہداف کے حصول کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جارے ہیں۔

مزیدپڑھیں: بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے، مشیر خزانہ

ان کا کہنا تھا کہ اہداف کے حصول کے لیے ادارتی اصلاحات بھی جاری ہیں۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ ’پہلے دو مہینوں میں شرح سود اور ایکسچینج ریٹ میں بہتری ریکارڈ کی گئی‘۔