سانحہ بلدیہ فیکٹری: ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا، مالک

19 ستمبر 2019

ای میل

ستمبر 2011 میں بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے —فائل فوٹو: اے ایف پی
ستمبر 2011 میں بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے —فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے فیکٹری مالک نے بیان دیا ہے کہ ہمیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو کروڑوں روپے بھتہ دینا کا کہا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں فیکٹری کے مالک ارشد بھائیلہ نے بیان قلم بند کرایا۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2005 میں فیکٹری ملازم جنرل منیجر منصور نے زبیر عرف چریا کو فیکٹری فینسنگ ڈپارٹمنٹ میں بھرتی کیا، زبیر چریا بلدیہ سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے چھوٹے بھائی کا گہرا دوست تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل منیجر منصور نے ایم کیوایم کو 15 لاکھ روپے ماہانہ دینے پر رضا مند کیا جبکہ آتشزدگی کے بعد ایم کیو ایم سیکٹر اعجاز بیگ کو بھتہ دیا۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 6 سال گزر گئے، کیس تاحال التوا کا شکار

اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ 2012 میں منصور کے آفس میں شاہد بھائیلہ سے سیکٹر انچارج ماجد بیگ ملا اور کہا کہ اب ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینا پڑے گا۔

بیان کے مطابق 12 جولائی 2012 کو اصغر بیگ کی جگہ رحمٰن بھولا کو بلدیہ کا سیکٹر انچارج لگایا گیا، جس کے بعد ایک روز ہم جب فیکٹری سے نکل رہے تھے تو رحمٰن بھولا نے روکا اور دھمکی دی کہ بھتے کے لیے حماد صدیقی سے رابطہ کرو۔

انہوں نے بتایا کہ رحمٰن بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا، یہ سن کر ہم حیران رہ گئے۔

فیکٹری مالک کے مطابق ہم نے منصور کو بھتے کے معاملات دیکھنے کے لیے کہا اور انہیں کہا کہ ایک کروڑ روپے دے کر معاملہ نمٹایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں مسلسل ایم کیو ایم کی جانب سے تنگ کیا جانے لگا، جس پر ہم نے کاروبار بنگلہ دیش منتقل کرنے کے لیے وہاں کا دورہ کیا جبکہ ہم فیکٹری جانے والے راستے اور گاڑیاں بھی تبدیل کرتے رہتے تھے۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2012 کو پہلے گودام میں آگ لگائی گئی، فائر بریگیڈ واقعہ کے بعد 60 سے 90 منٹ کے بعد پہنچی۔

مالک نے بتایا کہ اُس وقت کے چیف سی پی ایل سی احمد چنائے نے رشتہ دار کے ذریعے پیغام بھیجا، فیکٹری میں مزید رکنا مناسب نہیں ہے تو ہم رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے، ہمارے جانے کے بعد ایم کیو ایم کارکنوں نے فیکٹری کا کنٹرول سنبھال لیا اور کسی کو اندر نہیں جانے دیا گیا۔

بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد میں ہمیں ملازم نے بتایا کہ جب آگ لگی تو زبیر چریا 4 سے 5 اجنبی افراد کے ساتھ کینٹن میں بیٹھ کر چرس پی رہا تھا، خیال تھا کہ زبیر چریا بھی فیکٹری میں آگ لگانے میں ملوث ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 12 ستمبر کو واقعہ کا مقدمہ ایم کیو ایم اور رؤف صدیقی کے دباؤ پر ہمارے خلاف ہی درج کردیا گیا، 24 گھنٹوں میں ہمارے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیے گئے، ہمیں ولن اور اصلی ملزم کے طور پر پیش کیا گیا، ہم نے لاڑکانہ سے ضمانت حاصل کی اور پولیس کی تفتیش میں شامل ہوئے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

سانحے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں فروری 2015 میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ایم کیو ایم کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی، عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا سمیت 11 ملزمان کو فیکٹری میں آگ لگانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلدیہ فیکٹری مقدمے میں 2 گواہوں کا ملزم کے خلاف حلفیہ بیان

پروسیکیوشن کے مطابق مشتبہ ملزمان نے اس وقت کے ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایات پر عمل کیا کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا تھا۔

ابتدائی طور پر ثبوتوں کی عدم موجودگی پر پولیس نے زبیر چریا کو رہا کردیا تھا البتہ عبدالرحمٰن عرف بھولا کی جانب سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے قلمبند کرائے گئے بیان میں انہوں نے زبیر کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فیکٹری کو آگ لگانے کا کام انجام دیا جس کے بعد پولیس نے زبیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

علاوہ ازیں رواں سال اپریل میں کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور واقعے میں ملوث ایک ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کرلیا۔