رینجرز رپورٹ: سانحہ بلدیہ ٹاﺅن میں ایم کیو ایم ملوث قرار

ای میل

سانحہ بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کا ایک منظر— فائل فوٹو
سانحہ بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کا ایک منظر— فائل فوٹو

کراچی : 11 ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 258 ورکرز کی ہلاکت کے سانحے میں جمعے کو ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کو اس واقعے میں ملوث قرار دے دیا گیا۔

یہ رپورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے مرتب کی تھی جسے ایک ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ جج ایڈووکیٹ جنرل آف رینجرز میجر اشفاق احمد کے بیان کے ساتھ جمع کرایا گیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے مبینہ کارکن اور مشتبہ ملزم محمد رضوان قریشی نے یہ انکشاف بائیس جون 2013 کو سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کی مشترکہ تحقیقات کے دوران کیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم ورکر نے مزید انکشاف کیا ہے کہ " پارٹی کے ایک معروف اعلیٰ عہدیدار" نے اگست 2012 کو اپنے فرنٹ مین کے ذریعے آتشزدگی کا نشانہ بننے والی فیکٹری علی انٹرپرائزز کے مالک سے بیس کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔

مشتبہ شخص نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ بھتے کے مطالبے کے بعد فیکٹری کے مالکان میں سے ایک فرد نے بلدیہ ٹاﺅن کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ سے ملاقات کی اور اسے صورتحال سے آگاہ کیا۔

محمد رضوان کے مطابق سیکٹر انچارج اور اس کا بھائی ماجد فیکٹری کے مالک کو ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو لے گیا اور یہ معاملہ کراچی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی اور فاروق سلیم کے علم میں لائے۔

ملزم نے بتایا کہ اصغر بیگ نے کراچی تنظیمی کمیٹی کے اراکین کو بتایا کہ فیکٹری کے مالکان پارٹی کے حامی ہیں اور پھر بھی ان سے بھتے کی رقم ادا کرنے کا کہا جارہا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں ملزم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سیکٹر انچارج اور اس کے بھائی نے اس معاملے پر حماد صدیقی اور فاروق سلیم سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی کیا۔

ایم کیو ایم ورکر نے بتایا کہ اس کے بعد حماد صدیقی نے بلدیہ ٹاﺅن کے سیکٹر انچارج کو معطل کرتے ہوئے رحمان بوہلہ کو جوائنٹ سیکٹر انچارج بنا دیا۔

ملزم کا مزید کہنا تھا کہ تنظیمی کمیٹی نے رحمان بوہلہ کو فیکٹری مالکان سے بیس کروڑ روپے لینے کے احکامات دیے اور جب فیکٹری مالکان نے رقم دینے سے انکار کردیا تو سیکٹر انچارج اور اس کے ساتھیوں نے فیکٹری کو کیمیائی مادہ چھڑک کر نذر آتش کردیا۔

سی آئی ڈی نے گھر پر چھاپہ مار کر معطل سیکٹر انچارج اور اس کے بھائی ماجد کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد میں اس وقت رہا کردیا گیا جب ایم کیو ایم کی جانب سے فیکٹری مالکان پر دباﺅ ڈال کر یہ بیان دلوایا گیا کہ وہ اس سانحے میں ملوث نہیں۔

ملزم کے مطابق ایم کیو ایم کے ایک سابق وزیر نے فیکٹری مالکان کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرادی اور پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کے فرنٹ مین نے اس کیس کو ختم کرانے کے لیے فیکٹری مالکان سے پندرہ کروڑ روپے لیے۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ اسے یہ تمام معلومات بلدیہ ٹاﺅن کے سابق سیکٹر انچارج سے حاصل ہوئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں محمد رضوان قریشی کی مختصر تاریخ بھی بیان کی گئی ہے جس کے مطابق وہ 1968 میں پیدا ہوا اور این ایل سی میں 1984 سے 1988 تک بطور مکینک کام کرتا رہا جس کے بعد 1991 میں سپروائزر رہا۔ وہ 1991 سے 1998 تک بیروزگار رہا اور پھر کے ایم سی میں سینیٹری سب انسپکٹر بن گیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں ایم کیو ایم ورکرز کے دیگر متعدد مقدمات میں ملوث ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن میں 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی بھی شامل ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا اور سماعت کو ملتوی کردیا۔