وزیرا عظم عمران خان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے

ای میل

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ملائیشیا اور ترکی کے مابین سہ فریقی اجلاس بھی ہوگا—فوٹو: بشکریہ فیس بک
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ملائیشیا اور ترکی کے مابین سہ فریقی اجلاس بھی ہوگا—فوٹو: بشکریہ فیس بک

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور دیگر فورم پر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے امریکا پہنچ گئے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اقوام نیویارک میں 21 سے 27 ستمبر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیراعظم عمران خان پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

مزیدپڑھیں: امریکی صدر کشمیر تنازع پر عمران خان اور مودی سے ملاقات کریں گے

اعلامیے کے مطابق عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کو اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت پر پاکستانی موقف کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان عصر حاضر کے دیگر اہم امور پر عالمی دنیا کو اپنا موقف پیش کریں گے۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ ’مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ تمام سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا‘۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم دیگر ممالک کے وزرائے اعظم سے دوطرفہ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور یونیورسل ہیلتھ کوریج پر بھی بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان اور ترکی کے مشترکہ پروگرام میں ’نفرت انگیز تقاریر‘ کے سدباب پر بھی گفتگو کریں گے۔

مزید برآں کہ عمران خان ملائیشیا اور پاکستان کے اشتراک سے ہونے والے اجلاس میں مالیاتی تحفظ اورغربت مٹاؤ پروگرامز سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائن میں پاکستان، ملائیشیا اور ترکی کے مابین سہ فریقی اجلاس ہوگا‘۔

دفتر خارجہ کے مطابق ’وزیراعظم اپنے دورے میں تھنک ٹینک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کریں گے‘۔

مزیدپڑھیں: عمران خان کا دورہ امریکا ' تیسرے درجے' کا ہوگا

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے آئندہ چند روز میں ملاقاتیں کریں گے جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ 'جنوبی ایشیا میں 2 جوہری قوت کے حامل پڑوسیوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کروں گا، اس کے علاوہ پاکستان کے وزرا اعظم سے ملاقات ہوگی'۔