جعلی اکاؤنٹس کیس: 'جتنی رعایت کرو سب اتنا ہی سر پر چڑھتے ہیں'

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

سابق صدر آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں—فائل فوٹو: اے پی
سابق صدر آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ جتنی رعایت کرو سب اتنا ہی سر پر چڑھتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت میں جج محمد بشیر نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری کی وکیل سے ملنے کی درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران چوہدری ریاض ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ پیر کے علاوہ کسی دوسرے دن آصف زرداری سے ملاقات کی اجازت دی جائے، اس پر جج محمد بشیر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اُس دن آپ نے دیکھا وکیل میرے ساتھ کتنی بدتمیزی کررہے تھے، جتنی رعایت کرو سب اتنا ہی سر پر چڑھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور پر 4 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے کا امکان

جس پر چوہدری ریاض ایڈووکیٹ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کس وکیل نے بدتمیزی کی، اس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ جس دن ملاقات کا وقت مقرر ہے، اسی دن ملاقات کریں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ اگر زیادہ مسئلہ ہے تو جائیں اوپر سے اجازت لے لیں، بعد ازاں عدالت نے آصف زرداری کی وکیل فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 16 ستمبر کو احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے جیل میں ہفتے میں 2 روز اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی تھی۔

عدالت نے اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ دونوں ملزمان سے ہفتے میں صرف ایک ہی روز ملاقات کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریاستی خرچ پر آصف علی زرداری کو 'اے' کلاس سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کردیا تھا، تاہم عدالت نے انہیں اپنے ذاتی خرچ پر مختلف سہولیات فراہم کرنے یا ان کے سیل میں اُن چیزوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35 ارب روپے بتائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: پلی بارگین کی درخواست واپس لینے پر ملزم جیل منتقل

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: ’آصف زرداری کے پاس جیل میں اے سی تو درکنار ایئر کولر بھی نہیں‘

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

مذکورہ کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں مسلسل توسیع ہوتی رہی تاہم آصف زرداری کو 10 جون جبکہ ان کی بہن کو 14 جون کو گرفتار کرلیا تھا۔