محض فاسٹ فوڈ کھانے کی عادت سے خاتون کو بینائی سے محرومی کا خطرہ

01 اکتوبر 2019
مگر وہ خاتون اب بھی فاسٹ فوڈ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں — شٹر اسٹاک فوٹو
مگر وہ خاتون اب بھی فاسٹ فوڈ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں — شٹر اسٹاک فوٹو

برطانوی شہر نارویچ سے تعلق رکھنے والی ایک 25 سالہ خاتون ممکنہ طور پر رواں سال صرف جنک یا فاسٹ فوڈ کے استعمال نتیجے میں نابینا ہونے والی تیسری شخصیت بننے والی ہے۔

جیڈ ینگ مین نامی خاتون نے 22 سال سے کسی پھل یا سبزی کو چھوا بھی نہیں اور اس عرصے میں صرف پیزا، پاستا، فرنچ فرائیز اور چکن نگٹس کو کھانا ہی پسند کیا۔

اور اس کی وجہ کیا تھی؟ درحقیقت وہ ایک غذائی مرض avoidant restrictive food intake disorder یا افریڈ کا شکار تھی جس میں لوگوں کا غذائی انتخاب محدود ہوجاتا ہے اور مخصوص غذائیں کو ہی وہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

مگر حالیہ کیسز میں جو مریض سامنے آئے ہیں، انہوں نے ایسی غذاﺅں کو ترجیح دی جو پراسیس شدہ یا جنک سمجھی جاسکتی ہیں جبکہ اہم غذائی اجزا سے مھروم ہوتی ہیں۔

خاتون نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا 'میں اس کیفیت کو ایسے بیان کرسکتی ہوں کہ اگر کوئی میرے سامنے پھل یا سبزی کی پلیٹ رکھ دے تو وہ میرے لیے ایسی ہوگی جیسے کسی نے کتے کی غلاظت کو میرے سامنے رکھ کر کہا ہے اسے کھاﺅ'۔

طبی ماہرین ابھی خاتون کے مرض کے علاج کی کوشش کررہے ہیں اور خبردار کرچکے ہیں کہ اگر اس نے غذا کو تبدیل نہیں کیا تو وہ بینائی سے محروم ہوسکتی ہے، مگر وہ اب بھی پھلوں اور سبزیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اس کا کہنا ہے 'میں جانتی ہوں کہ اس سے میری صحت متاثر ہوسکتی ہے'۔

برطانیہ میں رواں سال مزید 2 کیسز ایسے سامنے آئے ہیں جن میں 2 نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہوگئے۔

غذائی عصبی نیوروپیتھی ایسا مرض ہے جو عام طور پر بہت کم سامنے آتا ہے اور عام طور پر اس کی وجہ منشیات، الکحل، تمباکو کا بہت زیادہ استعمال اور ناقص غذا کو عادت بنالینا ہے۔

فولک ایسڈ اور بی وٹامنز سے محروم غذا کا استعمال آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں زہریلا مواد خلیات میں جمع ہونے لگتا ہے اور بتدریج اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اگر اس کی تشخیص جلد ہوجائے تو اس کا علج ممکن ہوتا ہے، مگر ایک بار اعصاب کو نقصان پہنچ جائے تو پھر مرمت ممکن نہیں ہوتی۔

ستمبر کے آغاز میں بھی ایسا کیس سامنے آیا تھا اور ایک نوجوان محض اس لیے بینائی سے محروم ہوگیا، کیوں وہ کم عمری سے فرائیز اور چپس جیسی دیگر چیزیں شوق سے کھاتا آ رہا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ فرائیز، چپس، پرنگلز اور سوساج کو شوق سے کئی سال تک کھانے والا بینائی سے محروم ہونے والا یہ پہلا نوجوان ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینائی سے محروم ہونے والے نوجوان کی عمر 17 برس ہے اور اس نے انتہائی کم عمری یعنی 10 برس کے بعد شوق سے اور زیادہ مقدار میں فرائیز، چپس اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانا شروع کردی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 برس کی عمر تک مذکورہ نوجوان میں ’وٹامنز بی 12‘ سمیت اس کی ہڈیوں کے منرلز اور کئی طرح کے دیگر وٹامنز کی کمی دیکھی گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں