ایل او سی پر فائرنگ، 3 روز میں دوسری مرتبہ بھارتی ناظم الامور دفتر خارجہ طلب

02 اکتوبر 2019
پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر ایک مرتبہ پھر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہووالیا کو دفترخارجہ طلب کیا گیا اور ایل او سی پر بھارت کی مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور خبردار کیا گیا کہ بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

بیان کے مطابق منگل (یکم اکتوبر) کو بھارتی فورسز کی جانب سے نیزاپیر اور باگسر سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ سے 50 سالہ خاتون نورجہاں شہید جبکہ ایک خاتون اور 2 مرد زخمی ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایل او سی پر جارحیت، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب

واضح رہے کہ یہ 4 روز میں دوسری مرتبہ تھا کہ بھارتی فورسز نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، اس سے قبل 29 ستمبر کو بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک خاتون اور کم عمر لڑکا شہید ہوئے تھے جبکہ 3 شہری زخمی بھی ہوئے تھے۔

اعلامیے کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی فورسز 'خودکار ہتھیاروں اور بھاری مارٹر' سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے 2017 سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے، ان 2 برسوں میں ایک ہزار 9 سو 70 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف وزری کی گئی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے خبردار کیا کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں 'تزویراتی غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں'، ساتھ ہی انہوں نے بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا، انسانیت، بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ، 2 شہری جاں بحق

علاوہ ازیں انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے اور بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے جبکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارت امن کو برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کے امن مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے دے۔

یاد رہے کہ 30 ستمبر کو بھی پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔

اس سے قبل 14 ستمبر کو بھی دفتر خارجہ کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے جانی نقصان پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

ضرور پڑھیں

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں