آسٹریلیا کا پاکستان سے آزاد تجارتی معاہدے پر عدم دلچسپی کا اظہار

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

آسٹریلیا اور بھارت کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو:رائٹرز
آسٹریلیا اور بھارت کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو:رائٹرز

آسٹریلیا نے تجارتی اشیا اور سروسز محدود ہونے کی بنیاد پر پاکستان کو ترجیحی مارکیٹ تک رسائی دینے کی پشکش مسترد کردی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کی جانب سے اشیا، سروسز اور سرمایہ کاری سے متعلق آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر مذاکرات کا باقاعدہ مطالبہ کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: گوادر میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنی 23 سال کیلئے ٹیکس سے مستثنٰی

واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین مالی سال 17-2016 میں سروسز درآمدات کا حجم 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا جبکہ اسی عرصے میں برآمدات کا حجم 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا۔

دونوں ممالک کے مابین اشیا کے مقابلے میں سروسز کے میدان میں وسیع دوطرفہ تجارتی تعلقات ہیں۔

اس ضمن میں ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آسٹریلوی وفد نے دونوں ممالک کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کے آغاز سے متعلق مطالبے کو قطعی طور پر مسترد کردیا۔

ذرائع کے مطابق آسٹریلوی وفد کا ماننا ہے کہ تجارتی معاہدے کے لیے فی الوقت تجارتی حجم میں اتنی وسعت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں مقامی سطح پر موبائل تیار کرنے کی پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی

خیال رہے کہ آسٹریلیا کا نیوزی لینڈ، سنگاپور، تھائی لینڈ، امریکا، چلی، جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (آسیان)، ملائیشیا، کوریا، جاپان اور چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔

علاوہ ازیں آسٹریلیا اور بھارت کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے آسٹریلوی وفد سے بنگلہ دیش کی طرز پر ٹیرف میں کمی اور آسٹریلیا کی پھل مارکیٹ تک رسائی کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان سے آسٹریلیا کینو، امرود، مچھلی، جھینگے، گوشت، چکن برآمد کی اجازت نہیں ہے جبکہ’پاکستان نے مذکورہ اشیا کی برآمدات کی اجازت مانگی‘ تھی، تاہم ’مذکورہ اشیا کی برآمدات کی اجازت انتہائی سخت شرائط پر ہی مل سکتی ہے‘

مزیدپڑھیں: ملک میں زائد آمدن والے افراد کو ایک لاکھ 34 ہزار ٹیکس نوٹسز جاری

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت پاکستان شرائط پوری کرنے کے بعد صرف آم اور جرحی آلات برآمد کرسکتا ہے جبکہ 'ہم نے آم اور کجھوروں کے لیے بڑی منڈی تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا'۔

دوسری جانب آسٹریلوی وفد نے پاکستان سے اناج اور دالوں کی منڈی تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔