بھارت میں باپ نے نومولود بچی کو زندہ دفن کردیا

06 نومبر 2019

ای میل

پولیس نے دیگر حکام کی موجودگی 17 دن کی بچی کی لاش برآمد کرلی —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
پولیس نے دیگر حکام کی موجودگی 17 دن کی بچی کی لاش برآمد کرلی —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں باپ نے نومولود بچی کو زندہ دفن کردیا۔

ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ تامل ناڈو کے علاقے ویلو پورم میں 29 سالہ شخص کو اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: قرض ادائیگی میں تاخیر پر بچی کا قتل، تنازع شدت اختیار کرگیا

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ڈی وراڈراجن نامی شخص کی جانب سے بیٹی کو قتل کرنے کی دوسری کوشش تھی جس میں وہ کامیاب ہوگیا۔

پولیس نے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کے تیسرے روز ہی ڈی وراڈراجن نے اسے زندہ دفنانے کی کوشش کی تھی لیکن رشتے داروں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے وہ اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

پولیس کے مطابق ڈی وراڈراجن بیٹی کی پیدائش پر ناخوش تھا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی وراڈراجن کی بیوی سو رہی تھی کہ اس دوران وہ اپنی نوزائیدہ بیٹی کو لے گئے اور گڑھا کھود کر اس میں زندہ دفنا دیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: لڑکی کے ریپ اور قتل میں ملوث 14 مشتبہ افراد گرفتار

بعدازاں بیٹی کی غیر موجودگی پر ماں نے چیخ چیخ کر اہل خانہ اور پڑوسیوں کو جمع کرلیا۔

جس پر اہلخانہ اور پڑوسیوں نے پولیس کو واقعے کیاطلاع دی اور پولیس نے ڈی وراڈراجن کو گرفتار کیا تو سنگدل باپ نے بیٹی کو زندہ دفنانے کا جرم قبول کرلیا۔

بعد ازاں ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے دیگر حکام کی موجودگی 17 دن کی بچی کی لاش برآمد کرلی۔

پولیس نے ملزم کے خلاف 302، 315 اور 498 اے کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں لڑکوں کی پیدائش کو اہمیت دی جاتی ہے اور بیشتر واقعات سامنے آئے ہیں جس میں لڑکیوں کی پیدائش کے پیش نظر حمل گرادیا گیا۔

علاوہ ازیں بھارت میں گوری رنگت کو بھی انتہائی اہمیت دی جارہی ہے اسی ضمن میں 8 مئی کو قوم پرست ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ایک میڈیکل گروپ کا دعویٰ تھا کہ اس نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے جس کے ذریعے گہری رنگت کے حامل والدین گورے بچے پیدا کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دوران حمل تناؤ لڑکے کی جگہ لڑکی کی پیدائش کا امکان بڑھائے، تحقیق

آر ایس ایس سے وابستہ میڈیکل گروپ آروگیا بھارتی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ والدین جن کی رنگت خود صاف نہیں اگر وہ ان کے ورک شاپ میں شرکت کریں گے تو ان کے ہونے والے بچے گورے ہوسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں کولکتہ ہائی کورٹ نے بھی آروگیا بھارتی گروپ کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ’گورے اور دراز قد‘ جیسی خصوصیات کے حامل بچوں کی پیدائش کے طریقوں سے آگاہی کے لیے پروگرام چلاسکتے ہیں تاہم اسے سخت شرائط پر عمل پیرا رہتے ہوئے یہ سب کرنا ہوگا۔