جنوبی ایشیا میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ گئی، اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقی اور جنوبی افریقی خطے میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح 42.1 فیصد ہے —فائل فوٹو: ڈان نیوز
رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقی اور جنوبی افریقی خطے میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح 42.1 فیصد ہے —فائل فوٹو: ڈان نیوز

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس 4 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔

عالمی ادارے کی جانب سے جاری ورلڈ چلڈرن فار 2019 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں محض ایک سال یعنی 2018 میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 9 ہزار بچے جاں بحق ہوئے جن کی عمریں ایک سے پانچ برس تک تھیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں غذائی قلت کے خاتمہ کیلئے جاپان ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی امداد دے گا

اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسف) کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بچوں کے جاں بحق ہونے کی تعداد 8 لاکھ 82 ہزار رہی جبکہ اسی عرصے کے دوران افغانستان میں 74 ہزار بچے جاں بحق ہوئے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت سمیت دیگر ممالک میں 38 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے تاحال خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیا اس فہرست میں شامل ہے جہاں بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے اور ان کی جسمانی پرورش بہتر انداز میں نہیں ہورہی۔

یونیسف کے مطابق پورے جنوبی ایشیا کو خطرے کی لپیٹ میں ہے کیونکہ مذکورہ خطے میں 49.9 فیصد بچے بہتر طور پر نہیں بڑھ رہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 18.3 فیصد خاندان سنگین غذائی قلت کے شکار ہیں، اسٹیٹ بینک

رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقی اور جنوبی افریقہ کے خطوں میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح 42.1 فیصد ہے۔

یونیسف کے مطابق دیگر ممالک مثلاً مغربی اور وسطی افریقہ میں 39.4 فیصد، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 32.4 فیصد، مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں 22.5 فیصد، مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں 17.2 فیصد، لاطینی امریکا اور کیریبین میں 16.5 فیصد اور شمالی امریکا میں 11.6 فیصد بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔

یونیسف کی مذکورہ رپورٹ میں پاکستان کے بارے کچھ مفید اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018 کے اواخر تک پاکستان کی آبادی 21 کروڑ 22 لاکھ تھی جن میں کم از کم 8 کروڑ 79 لاکھ 18 سال سے کم اور 2 کروڑ 72 لاکھ پانچ سال سے کم تھے۔

مزیدپڑھیں: پاکستان اور غذائی قلت

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی سالانہ شرح نمو سال 2000 سے سال 2028 کے درمیان 2.2 فیصد ہے، جس کی بنیاد پر سال 2018 سے سال 2030 کے درمیان ملک کی شرح نمو کم ہو کر 1.8 فیصد ہوجائے گی۔

یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں 59 لاکھ 99 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 میں ایک ہزار بچوں میں سے پانچ برس سے کم عمر بچوں کی اموات کی 139، میں سے 2000 میں 112 اور 2018 میں 69 رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 میں ہر ایک ہزار اموات میں پانچ سال کی عمر تک بچوں کی اموات کا تناسب 10 ریکارڈ کیا گیا۔

یونیسف کے مطابق 2018 میں 2 لاکھ 51 ہزار نومولود بچوں کی سالانہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: تھر میں غذائی قلت، 48 گھنٹوں میں مزید 6 بچوں کی اموات

اقوام متحدہ کی رپورٹ پر وزیر اعظم کی خصوصی معاون ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ کسی ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) پر اخراجات کا اثر وسیع ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا میں کم وزن، بچوں کی غیر تسلی بخش نشوونما اور غذائی قلت کی وجہ سے سالانہ جی ڈی پی کا نقصان اوسطا 11 فیصد ہے۔


یہ خبر 6 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی