بھارت: قرض ادائیگی میں تاخیر پر بچی کا قتل، تنازع شدت اختیار کرگیا

07 جون 2019

ای میل

طبی رپورٹ کے مطابق بچی کو گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا — تصویر: شٹراسٹاک
طبی رپورٹ کے مطابق بچی کو گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا — تصویر: شٹراسٹاک

بھارت کے شمالی شہر میں 10 ہزار روپے قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر 2 سالہ بچی کے قتل کا واقعہ شدید تنازع اختیار کر گیا۔

خبررساں ادارے ’اےا یف پی‘ کے مطابق بھارتی شہری علیگڑھ پولیس کے چیف نے بتایا کہ شہر میں تناؤ کم کرنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جھوٹی خبر پر خاتون قتل، 14 زخمی

پولیس کے مطابق دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر بچی کو 31 مئی کو اغوا کیا تھا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ طبی رپورٹ کے مطابق بچی کو گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

پولیس چیف اکاش کلیاری نے بتایا کہ مشتبہ ملزمان نے بچی کو قتل کرکے کوڑے دان میں پھینک دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بچی کے دادا 10 ہزار روپے کے مقروض تھے اور ملزمان کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔

مزیدپڑھیں: بھارت میں ریپ کے بڑھتے واقعات، لڑکیاں دفاع کیلئے اقدامات پر مجبور

ان کا کہنا تھا کہ طبی رپورٹ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔

پولیس چیف نے بتایا کہ ’فرائض کی ادائیگی میں لاپرواہی‘ برتنے پر 5 پولیس افسران کو برطرف کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بچی کے نام سے ہیش ٹیگ وائرل ہوچکا ہے جس پر لوگوں نے ملزمان کو سزائے موت کا مطالبہ کردیا۔

سیاستدانوں، اداکاروں اورکھلاڑیوں نے بچی کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’علیگڑھ میں غیرانسانی واقعہ پیش آگیا، معصوم بچے کے خلاف بہیمانہ قتل ناقابل بیان ہے اور ہمیں کیا ہو گیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کیلئے بھارت دنیا کا خطرناک ترین ملک

خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بچوں کے ساتھ جرائم کے واقعات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

نیشنل کرائم اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں تقریباً 2 ہزار بچے قتل، 55 ہزار اغوا اور 13 ہزار بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔