نامور فرانسیسی اداکارہ کا ہدایت کار پر جنسی ہراسانی کا الزام

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2019

ای میل

اڈیل کا شمار فرانس کی کامیاب اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے — فوٹو/ اےایف پی
اڈیل کا شمار فرانس کی کامیاب اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے — فوٹو/ اےایف پی

خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف سامنے آئی مہم 'می ٹو' کا سہارا ہولی وڈ کی بہت سی اداکاراؤں نے لیا، جنہوں نے سامنے آکر ان شخصیات کے نام دنیا کو بتائے جنہوں نے کبھی انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

اور اب فرانس کی کامیاب اداکارہ اڈیل ہینیل نے بھی می ٹو مہم کا حصہ بنتے ہوئے نامور ہدایت کار کرسٹوف روجیا پر نوجوانی میں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پوری فرانس کی فلمی دنیا کو حیران کردیا۔

ایوارڈ یافتہ اڈیل ہینیل نے میڈیا پارٹ نیوز نامی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کی پہلی فلم کے ہدایت کار نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

اڈیل فرانس کی نامور اداکارہ ہیں — فوٹو/ اے ایف پی
اڈیل فرانس کی نامور اداکارہ ہیں — فوٹو/ اے ایف پی

اڈیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ سب بتانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب حال ہی میں انہوں نے 'لیونگ نیورلینڈ' نامی ڈاکیومنٹری دیکھی جو مشہور زمانہ پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کی زندگی اور ان کے بچوں سے ان کے تعلق پر مبنی تھی۔

مزید پڑھیں: 'ہو شربا انکشافات' سامنے لانے والی مہم کے دو سال مکمل ہونے پر کیا ہوا؟

اداکارہ نے مزید کہا کہ 'اس فلم کو دیکھنے کے بعد میری سوچ تبدیل ہوگئی، اسے دیکھ کر مجھے ہدایت کار کرسٹوف روجیا اور اپنی ایسی ہی ایک فلم کی یاد آگئی'۔

کرسٹوف روجیا نے اپنے کیریئر میں بہت کم فلمیں بنائیں — فوٹو/ اسکرین شاٹ
کرسٹوف روجیا نے اپنے کیریئر میں بہت کم فلمیں بنائیں — فوٹو/ اسکرین شاٹ

30 سالہ اڈیل کو کرسٹوف روجیا نے 12 سال کی عمر میں اپنی فلم 'دی ڈیولز' میں کاسٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے ایک ایسی یتیم بچی کا کردار نبھایا جو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنے والدین کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے۔

کرسٹوف روجیا اور اڈیل نے اکٹھے اس فلم کی تشہیر بھی کی جبکہ بعدازاں کرسٹوف نے اڈیل کو اپنے گھر مدعو بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

اڈیل کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ 'یہ وہی دن تھا جب کرسٹوف نے پہلی مرتبہ مجھے ہاتھ لگایا اور مجھے بوسہ دینے کی کوشش کی، اس وقت میں 15 سال کی تھی، میں نے کرسٹوف سے ہر رابطہ ختم کرنے کی کوشش کی اور لوگوں سے مدد بھی مانگی لیکن چند نے ہی میرا ساتھ دیا'۔

فلم 'دی ڈیولز' کا ایک منظر — فوٹو/ اسکرین شاٹ
فلم 'دی ڈیولز' کا ایک منظر — فوٹو/ اسکرین شاٹ

میڈیا پارٹ کی جانب سے کی گئی تفتیش کے بعد تقریباً 30 گواہان نے بتایا کہ کرسٹوف روجیا کو اس نوجوان اداکارہ کے ساتھ رہنے کا جنون ہوگیا تھا، سیٹ پر موجود دیگر اداکار اور تکنیکی ماہرین بھی اس ماحول سے پریشان تھے۔

اداکارہ کی جانب سے ہدایت کار پر لگائے گئے ان الزامات کے بعد انہیں فرانس فلم سوسائٹی میں دیے گئے متعدد عہدوں سے برطرف کردیا گیا۔

تاہم اداکارہ نے عدالت میں شکایت درج کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فرانس کی عدالتوں پر یقین نہیں۔

البتہ اڈیل کے ان الزامات کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے اس معاملے کی کاروائی کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب کرسٹوف روجیا نے تمام الزامات بے بنیاد ٹھہرادیے تاہم انہوں نے یہ بات ضرور قبول کی کہ شاید انہوں نے اڈیل کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ہوگا۔

54 سالہ ہدایت کار کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ 'مجھے نہیں لگتا کے میں نے کچھ غلط کیا، ہاں اگر میرے کسی رویے سے نوجوانی میں انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو تو میں اس سے معافی مانگتا ہوں'۔

مزید پڑھیں: نامناسب رویوں کے خلاف پاکستانی خواتین بھی آواز اٹھانے کو تیار

کرسٹوف روجیا نے اپنے کیریئر میں بہت کم فلمیں بنائیں، ان میں کوئی بھی بہت زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی، وہ گزشتہ کئی سالوں سے تارکین وطن کے حقوق پر بات کرتے نظر آرہے ہیں۔

دوسری جانب اڈیل اپنے کیریئر میں 25 سے زائد فلموں میں جلوہ گر ہوچکی ہیں۔

انہوں نے دو مرتبہ سیزار ایوارڈز بھی اپنے نام کیے جو فرانس میں آسکر ایوارڈز کے برابر مانے جاتے ہیں۔

اڈیل نے دو مرتبہ سیزار ایوارڈز جیتے — فوٹو/ فائل
اڈیل نے دو مرتبہ سیزار ایوارڈز جیتے — فوٹو/ فائل

'می ٹو' مہم کا سہارا لے کر سامنے آئی خواتین امید ظاہر کررہی ہیں کہ ایڈل کے بعد فرانس انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی مزید اداکارائیں بھی سامنے آکر اپنے مجرموں کا نام دنیا کو بتائیں گی۔

وومن ان فلم نامی ویب سائٹ چلانے والی نامور فرانس کی صحافی ویرونیک لی برس کا کہنا تھا کہ 'میرا خیال ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے، ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ فرانس کی ایک ایسی اداکارہ نے سامنے آکر اپنے ساتھ ہوئے نامناسب واقعے کو دنیا کے سامنے بتایا، ایک ایسی اداکارہ جو دنیا بھر میں مقبول ہے'۔

ایک اور فرانسیسی اداکارہ ماریون کوٹلارڈ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 'اڈیل تمہارا حوصلہ کسی تحفے سے کم نہیں، تم نے خاموشی توڑ کر دنیا کو دکھا دیا کہ تم مضبوط ہو'۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on