’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

21 اکتوبر 2017

ای میل

پاکستانی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اس ٹرینڈ کا استعمال کیا —۔
پاکستانی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اس ٹرینڈ کا استعمال کیا —۔

ہولی وڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف تقریباً 18 اداکاراؤں و خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جب کہ 5 اداکاراؤں نے ان پر ’ریپ‘ کے الزامات بھی لگائے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ’می ٹو‘ (Me Too) نامی مہم کا آغاز ہوگیا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ’ریپ‘ جیسے سنگین الزامات لگانے والی اداکاراؤں، ماڈلز، گلوکاراؤں، فیشن ڈیزائنرز اور صحافیوں میں انجلینا جولی، ایشلے جڈ، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کنڈیل، گوینتھ پالٹرو، ہیدر گراہم، روسانا آرکوئٹے، امبرا بٹیلانا، زوئے بروک، ایما دی کانس، کارا دیلوگنے، لوشیا ایونز، رومولا گرائے، ایلزبتھ ویسٹوڈ، جوڈتھ گودریچے، ڈان ڈیننگ، جیسیکا ہائنز، روز میکگوان، ٹومی این رابرٹس، لیا سینڈوئکس، لورین سوین اور مرا سرینو شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ہولی وڈ پروڈیوسر پر اداکاراؤں کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام

اسی حوالے سے امریکی اداکارہ ایلسا میلانو نے ٹوئٹر پر ’می ٹو‘ (MeToo#) یعنی ’میں بھی‘ کے عنوان سے ایک ٹرینڈ کا آغاز کیا۔

ہاروی وائنسٹن نے الزامات کو مسترد کردیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
ہاروی وائنسٹن نے الزامات کو مسترد کردیا تھا—فوٹو: اے ایف پی

اداکارہ نے تمام خواتین سے درخواست کی کہ ’اگر آپ کو بھی کبھی کسی نے جنسی طور پر ہراساں کیا، یا آپ پر تشدد کیا ہے تو اپنے اسٹیٹس میں 'می ٹو' لکھیں، اس سے ہم لوگوں کو اس بات کا اندازہ دلا سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ کتنا بڑا ہے‘۔

اب تک لاکھوں کی تعداد میں خواتین اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ردعمل کا اظہار کرچکی ہیں۔

پاکستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اس ٹرینڈ کا استعمال کیا۔

شکایت کرنے والی اداکاراؤں میں انجلینا جولی بھی شامل ہیں—فوٹو: اے ایف پی
شکایت کرنے والی اداکاراؤں میں انجلینا جولی بھی شامل ہیں—فوٹو: اے ایف پی

خیال رہے کہ معروف اداکارہ انجلینا جولی نے بھی ہاروی وائنسٹن پر نازیبا رویہ اپنانے جیسے الزامات لگائے اور بتایا کہ انہوں نے ان کے ساتھ صرف ایک فلم میں اُس وقت کام کیا جب وہ جوان تھیں، تاہم ہاروی وائنسٹن کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات اور ان کا رویہ برا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے ان کے ساتھ مزید کام نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی ہراسگی اسکینڈل: ہاروی وائنسٹن کی ’آسکر‘ رکنیت معطل

نیویارک اور لندن پولیس نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف الگ الگ تحقیقات بھی جاری کررکھی ہیں۔