مرسی کے ’ریاستی قتل‘ کی تفتیش کی جائے، نمائندہ اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2019

ای میل

اقوام متحدہ کی ماہر نے مطالبہ کیا کہ سابق صدر اور دیگر ہزاروں قیدیوں کی غیر قانونی موت کی آزادانہ تفتیش ہونی چاہیے — فائل فوٹو:اے پی
اقوام متحدہ کی ماہر نے مطالبہ کیا کہ سابق صدر اور دیگر ہزاروں قیدیوں کی غیر قانونی موت کی آزادانہ تفتیش ہونی چاہیے — فائل فوٹو:اے پی

اقوام متحدہ کی ماہر نے مصر میں سیاسی قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر محمد مرسی کی موت کے ذمہ دار حکام ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کے ہائی کمشنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ماورائے قانون یا پھانسی کے حوالے سے معاملات کی خصوصی ماہر اگنیز کلامارڈ کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹر محمد مرسی کو جن حالات میں رکھا گیا تھا اور خصوصاً آخری پانچ برسوں کو طورا جیل میں قید رکھا گیا اس کو صرف ظالمانہ کہا جاسکتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹر مرسی کی موت جن حالات کو برداشت کرنے کے بعد ہوئی اس کو ریاستی قتل کہا جاسکتا ہے’۔

اگنیز کلامارڈ نے کہا کہ ‘ہمیں کئی ذرائع سے مصدقہ ثبوت حاصل ہوئے ہیں کہ مصر بھر میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جو اپنے حقوق سے محرومی کا شکار ہیں اور ان میں کئی کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں’۔

مزید پڑھیں:مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے

انہوں نے کہا کہ ‘صدر عبدالفتح السیسی کی موجودہ حکومت مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے مسلسل اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے’۔

مصری حکومت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘حکومت سے سرکاری رابطوں میں ماہرین نے ڈاکٹر مرسی پر روزانہ کی بنیاد پر عائد مشکلات اور عدم توجہ کی فہرست ترتیب دی ہے’۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘ڈاکٹر مرسی کو روزانہ 23 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا تھا اور انہیں دوسرے قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، یہاں تک کہ اس ایک گھنٹے میں بھی جب انہیں ورزش کی اجازت ہوتی تھی’۔

ڈاکٹر محمد مرسی کو جیل میں دیے گئے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘انہیں پتھروں کے فرش پر سونے پر مجبور کیا جاتا تھا اور صرف ایک کمبل یا دو کمبل دیے جاتے تھے، انہیں کتابوں، مجلوں، تحریری مواد یا ریڈیو تک بھی رسائی نہیں دی گئی تھی’۔

یہ بھی پڑھیں:مصر: دل کا دورہ پڑنے سے سابق صدر محمد مرسی کے چھوٹے بیٹے کا انتقال

اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر نے کہا کہ ‘ڈاکٹر مرسی کو زندگی بچانے والی ادویات نہیں دی گئیں، ان کی ذیابیطس اور بلند فشار خون (بلڈپریشر) کا خیال نہیں رکھا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی بائیں آنکھ کی بینائی چلی گئی، ذیابیطس کے دورے پڑتے تھے اور مسلسل بے ہوش ہوجاتے تھے’۔

مصری حکومت کی جانب سے جیل میں مرسی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور بیماری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘مرسی دانتوں اور جبڑوں کی خطرناک بیماری کا بھی شکار ہوگئے تھے’۔

السیسی کی حکومت کے رویے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘حکام کو مسلسل خبردار کیا جاتا رہا کہ جیل میں ڈاکٹر مرسی کی حالات بتدریج گر رہی ہے اور موت کے دہانے پر پہنچ رہی ہے لیکن ان شکایات کو دور کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اقدمات کی ثبوت نہیں ملے حالانکہ اس کے نتائج واضح نظر آرہے تھے’۔

مزید پڑھیں:مصر کے سابق صدر محمد مُرسی سپرد خاک

مصری جیلوں میں قید دیگر ہزاروں قیدیوں کی حالت زار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ڈاکٹر مرسی کے سابق مشیر خارجہ ڈاکٹر ایسام الحداد اور ان کے بیٹے غیہاد الحداد، جو گرفتاری کے وقت اخوان المسلمون کے ترجمان تھے، سمیت ہزاروں قیدی اسی طرح کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں’۔

اگنیز کلامارڈ نے کہا کہ ‘ان دونوں افراد کو جن حالات میں رکھا گیا ہے اور علاج سے انکار کے ذریعے واضح طور پر قتل کیا جارہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے یا کم سے کم ان کی زندگی اور قسمت سے متعلق معاملات کو نظر انداز کرنے کی اجازت ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مصر میں ہزاروں قیدیوں کی جان کو خطرہ ہے یا انہیں صحت کے حوالے سے ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ جیلوں میں درپیش نامناسب حالات، بغیر کسی جرم کے جیل بھیجنے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی، وکلا تک رسائی نہ دینے اور شفاف عدالتی کارروائی کے حق سے محروم رکھنے سمیت دیگر کارروائیاں کی جارہی ہیں’۔

اقوام متحدہ کی ماہر نے کہا کہ ‘ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی ہیں، ناقص غذا، روشنی اور تازہ ہوا کے گزرنے کے ناقص انتظامات ہیں، قیدیوں کو اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں ہے، وہ ضروری طبی امداد کے حصول میں ناکام ہیں اور کئی افراد کو غیر معینہ مدت تک قید تنہائی میں رکھا گیا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:جاسوسی کیس: محمد مرسی کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

اگنیز کلامارڈ نے ‘ڈاکٹر مرسی کی غیر قانونی موت اور 2012 سے تاحال دوران قید جاں بحق قیدیوں کی غیر جانب دار اور آزادانہ موثر تفتیش کا مطالبہ کیا تاکہ اس کے ذمہ داران کو سزا دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ازالہ کیا جاسکے’۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘تفتیش کے طریقہ کار اور نتائج کو عام کردیا جانا چاہیے’۔

یاد رہے کہ مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی 17 جون 2019 کو قید کے دوران جاری عدالت میں کے موقع پر کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے تھے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر مرسی دوران سماعت بے ہوش ہوگئے تھے اور کچھ دیر بعد انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر محمد مرسی 2012 میں مصر میں تحریر اسکوائر پر لاکھوں افراد کے مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک کے دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور انہیں اخوان المسلمون کی جانب سے صدر کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن ایک سال بعد ہی ان سے استعفے کے مطالبہ کیا جانے لگا اور مصر میں ایک مرتبہ پھر احتجاج شروع ہوئے۔

مصر کے اس وقت کے آرمی چیف عبد الفتح السیسی نے جولائی 2013 میں حکومت کا گرا کر خود براجمان ہوئے اور بعد ازاں خود کو صدر منتخب کروادیا۔

مصری فوج نے اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے محمد مرسی سمیت کئی رہنماؤں اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا اور دوران سیکڑوں کارکنوں کو قتل کیا گیا اور کئی جیلوں میں انتقال کرگئے۔

محمد مرسی کو جاسوسی، مظاہرین کو قتل کروانے اور جیل توڑنے کے الزامات کے تحت عمر قید، سزائے موت اور 20 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی تھیں۔