مسلم لیگ (ن) نے 2020 میں انتخابات کا مطالبہ کردیا

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2019

ای میل

احسن اقبال لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
احسن اقبال لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت 2020 میں نئے انتخابات چاہتی ہے کیونکہ قوم کو درپیش سیاسی و معاشی چیلنجز کا یہی واحد حل ہے۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 'آئندہ سال صاف و شفاف انتخابات کے لیے قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ملک میں صاف و شفاف انتخابات کا میکانزم مرتب کرنا چاہیے'۔

مزید پڑھیں: 'جو پذیرائی جے یو آئی (ف) کے دھرنوں کی ہورہی ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے'

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پارٹی نے حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف مہم کے اثرات بڑھانے کے لیے اقدامات پر بحث کی گئی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'حکومت پوری طرح سے ناکام ہوچکی ہے'۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی آئندہ کے اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بحث کرے گی کیونکہ ہر جماعت کا اپنا پلان بی اور پلان سی ہے'۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں ممبر سازی کی مہم کا آغاز کریں گے۔

جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے عوام کو دھوکا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مسلم لیگ (ن) کی حکومت قومی اسمبلی میں اس مسئلے پر دوبارہ آواز اٹھائے گی اور ہماری جماعت ہزارہ صوبے کا معاملہ بھی اسمبلی میں اٹھائے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا، عمران خان

انہوں نے کہا کہ 'کمیٹی نے قوم کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی بحث کی جن میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور پنجاب میں انتظامی فقدان شامل ہیں'۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'پنجاب کے تمام محکمے اور انفراسٹرکچر تباہی کا شکار ہوگئے ہیں'۔

نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو علاج کے لیے ملک سے روانہ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو 15 روز قبل ملک سے چلے جانا تھا تاہم حکومت کی جانب سے ان کے سفر میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈالی گئیں جو خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزرا ایک بیمار شخص کے خلاف بیانات جاری کرتے ہیں۔