کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن، سی اے اے کو شکایت کنندہ کو معلومات فراہم کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2019

ای میل

معلومات تک رسائی کا قانون اکتوبر 2017 میں منظور ہوا تھا —تصویر: شٹر اسٹاک
معلومات تک رسائی کا قانون اکتوبر 2017 میں منظور ہوا تھا —تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کے ایک کیس کی سماعت میں پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے کنٹونمٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے شکایت کنندہ کو 20 روز کے اندر معلومات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی کمشنر برائے اطلاعات زاہد عبداللہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر دونوں اداروں نے حکم کی تعمیل نہ کی تو ان کے خلاف توہین کا نوٹس بھیجا جائے گا کیوں کہ وہ اِن احکامات پر عمل کے پابند ہیں بصورت دیگر فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ نے سی بی سی سے سڑکوں اور گلیوں کی صفائی اور کچرا اٹھانے کے ٹھیکوں کی مصدقہ نقول طلب کی تھیں، مزید یہ کہ انہوں نے سی بی سی سے گٹروں کی صفائی، سیوریج لائنز کو کھولنے اور انہیں درست حالت میں رکھنے پر مامور خاکروبوں کی فہرست، ان کے نام، ان کی مدت ملازمت اور مذہب کی تفصیلات پوچھی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں معلومات تک رسائی آپ کا حق ہے؟

مذکورہ شکایت گزار نے سی اے اے سے بھی وہ وجوہات اور اصول و ضوابط پوچھے تھے جن کے تحت کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر صفائی کا کام کرنے والوں کو 14 ہزار روپے ماہانہ جبکہ کار پارکنگ اور بیرونی حصے میں کام کرنے والوں کو 12 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔

شکایت کنندہ نے سی اے اے اور صفائی ستھرائی کا ٹھیکہ فراہم کرنے والوں کے درمیان ہوئے معاہدے کی بھی مصدقہ نقول طلب کی تھیں جبکہ ایئر پورٹ کے اندر اور باہر کام کرنے والے مستقل اور غیر مستقل ملازم خاکروبوں کی تعداد بھی پوچھی تھی۔

اس سلسلے میں وفاقی کمشنر اطلاعات نے بتایا کہ دونوں اداروں کی جانب سے معلومات نہ فراہم کیے جانے پر شکایت گزار نے پی آئی سی میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے نفاذ کا اعلان

مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں اداروں کو وقفے وقفے سے 3 نوٹسز ارسال کیے گئے لیکن وہ معلومات کی فراہمی پر آمادہ نہیں ہوئے بلکہ سی بی سی نے معلومات دینے کے بجائے کہا کہ اسی شکایت گزار نے سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی، اس لیے معلومات نہیں دی جاسکتیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس کی معلومات حاصل کر کے سی بی سی کو بتایا کہ وہ کیس کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ کرنے کے بارے میں ہے اور اس کا معلومات کی فراہمی سے کوئی لینا دینا نہیں پھر بھی سی بی سی نے معلومات دینے کی زحمت نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ ’آخر کار احکامات جاری کیے گئے اور اگر دونوں ادارے ان احکامات پر عمل نہ کرسکے تو ان کے خلاف توہین کے نوٹسز ارسال کیے جائیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی کال کرنے والوں کی ذاتی معلومات تک پولیس کو رسائی حاصل

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ نے 20-2019 کے بجٹ میں کمیشن کا بجٹ منظور کیا تھا لیکن وزارت اطلاعات نے عملے کی بھرتی کے لیے کوئی آسامی نہیں نکالی۔

خیال رہے کہ معلومات تک رسائی کا قانون اکتوبر 2017 میں منظور ہوا تھا جس کے تحت تمام سرکاری ادارے اپنی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں، تاہم زیادہ تر ادارے انتہائی محدود معلومات فراہم کرتے ہیں۔

قانون کے تحت پی آئی سی 6 ماہ میں قائم ہونا تھا لیکن گزشتہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا تاہم موجودہ حکومت نے گزشتہ برس 7 نومبر کو سابق سیکریٹری اطلاعات کو چیف انفارمیشن کمشنر تعینات کردیا تھا۔