عراق: حکومت مخالف احتجاج جاری، فائرنگ سے مزید 4 شہری جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

عراق میں گزشتہ دو ماہ کے دوران احتجاج میں 340 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں—فوٹو:اے پی
عراق میں گزشتہ دو ماہ کے دوران احتجاج میں 340 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں—فوٹو:اے پی

عراق میں حکومت مخالف احتجاج مسلسل دوسرے مہینے بھی جاری ہے جہاں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے دوران مزید 4 مظاہرین اپنی جان گنوا بیٹھے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد بغداد سے گزشتہ ماہ شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 340 سے تجاوز کرگئی ہے اور ہزاروں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس، وزیر اعظم آفس، وزرا کے دفاتر اور مرکزی بینک سمیت غیر ملکی سفارت خانوں کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے ان پر آنسو گیس استعمال کی اور فائرنگ کی جس کے باعث ہلاکتیں ہوئیں اور شہری زخمی بھی ہوگئے۔

میڈیکل ٹیم کے اراکین کا کہنا تھا کہ دو مظاہرین گولی لگنے اور دو آنسو گیس کے کنستر لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

مزید پڑھیں:اقوامِ متحدہ، آیت اللہ کا عراق سے انتشار کے خاتمے کیلئے اصلاحات کا مطالبہ

انسانی حقوق کی تنظیموں کے عہدیداروں نے سیکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ہوائی فائرنگ کرنے کے بجائے براہ راست لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

حکومت مخالف احتجاج مسلسل دو ماہ سے جاری ہے— فوٹو: اے ایف پی
حکومت مخالف احتجاج مسلسل دو ماہ سے جاری ہے— فوٹو: اے ایف پی

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مستعفی ہو اور اصلاحات کی جائیں لیکن وزیر اعظم سمیت دیگر اراکین مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور استعفیٰ دینے سے انکار کررہے ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انتخابی اور روزگار فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کی جارہی ہیں۔

تاہم شہری حکومتی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے بغداد کے مشہور تحریر اسکوائر میں کئی ہفتوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

عراق کے معروف مذہبی پیشوا آیت اللہ علی سیستانی نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ نئے انتخابی قوانین مرتب کریں۔

کربلا میں ان کے نمائندے نے پیغام سناتے ہوئے کہا کہ ملک میں فوری طور پر نئے انتخابی قوانین بنانے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت سست روی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عراق میں ایران کی جارحانہ مداخلت کا خفیہ رپورٹس میں انکشاف،امریکی اخبار

گزشتہ ہفتے عراق میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار کے علاوہ آیت اللہ سیستانی نے بھی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ سیکڑوں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حکومت مخالف احتجاج کے بعد اصلاحات کے لیے ’سنجیدہ‘ ہوجائیں۔

یو این اے ایم آئی کے سربراہ چیف جینائین ہینیس پلاشرٹ نے آیت اللہ سیستانی سے نجف میں ملاقات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق میں مذہبی قوت (مرجعیۃ) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’پرامن مظاہرین اپنے مطالبات کے جواب میں اطمینان بخش اصلاحات کے بغیر گھر نہیں جاسکتے‘۔

اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’مرجعیۃ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سیاسی قوتیں ان اصلاحات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں‘۔

مزید پڑھیں:عراق میں حکومت مخالف سول نافرمانی کی مہم، سرکاری دفاتر بند

جینائین ہینیس نے واضح کیے بغیر خبردار کیا تھا کہ ’اگر 3 ادارے مقننہ، عدلیہ اور حکومت فیصلہ کن اصلاحات کرنے کے قابل یا اس پر راضی نہیں ہوئے تو ایک مختلف نقطہ نظر سے سوچنے کا طریقہ ہونا چاہیے‘۔

اقوام متحدہ نے اس پر بھی خبردار کیا تھا کہ ’خوف اور غصے کی فضا قائم ہوچکی ہے‘ اور یہ کہ انسانی حقوق کونسل عراق میں حقوق کے ریکارڈ کا متواتر جائزہ لینے کے لیے اجلاس کرے گی۔