پی سی بی کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد مستعفی

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

سبحان احمد گزشتہ 9 برس سے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ افسر رہے—فائل/فوٹو:ڈان
سبحان احمد گزشتہ 9 برس سے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ افسر رہے—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سبحان احمد نے 9 برس تک چیف آپریٹنگ افسر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد استعفیٰ دے دیا اور بورڈ آف گورنرز کو 56 ویں اجلاس میں اس سے آگاہ کیا گیا۔

سبحان احمد کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی کے ساتھ 25 سال سے زائد عرصہ منسلک رہنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ مناسب وقت ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک شان دار سفر رہا، بین الاقوامی فورمز میں پی سی بی کی نمائندگی کرنا اعزاز تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی کو نیم پروفیشنل سے مکمل پروفیشنل میں تبدیل ہونے اور ملک کے بہترین کارکردگی دکھانے والے اداروں میں سے ایک بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ایک اعزاز ہے’۔

سبحان احمد نے کہا کہ ‘میں ان تمام ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سفر میں میری رہنمائی اور تعاون کیا اور انہوں نے جونیئر افسر سے چیف آپریٹنگ افسر کے طور پر میری ترقی میں کردار ادا کیا، ان کے تعاون کے بغیر میں اپنے کیریئر کے اہداف اور مقاصد حاصل نہیں کرپاتا’۔

یہ بھی پڑھیں:پی سی بی کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کون ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ‘میں پی سی بی کا خیر خواہ رہوں گا’۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا تھا کہ ‘سبحان احمد کی پی سی بی کے لیے خدمات عزت و انکساری کے ساتھ غیر معمولی رہی ہیں’۔

احسان مانی نے کہا کہ ‘گزشتہ کئی برسوں کے دوران جب پی سی بی نے پاکستان میں کھیل کو مزید مضبوط بنانے کی خاطر منافع بخش کمرشل معاہدوں کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات اور دیگر تبدیلیاں کی تو سبحان احمد پیش پیش تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس پس منظر میں ان کے پی سی بی سے جانے کا افسوس ہے’۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ‘میں پی سی بی کی طرف سے سبحان احمد کا ان کی خدمات پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، پی سی بی ان کی تجربے سے مسلسل فائدہ اٹھائے گی اور ہم خاص منصوبوں پر ایک کردار کی بنیاد پر تبادلہ خیال کریں گے’۔

مزید پڑھیں:کوچنگ کے لیے مصباح الحق کا نام کیوں اور کیسے آیا؟

یاد رہے کہ وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت بننے کے بعد سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور احسان مانی کو نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔

احسان مانی نے چیئرمین بننے کے بعد پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں اور انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ سے منسلک وسیم خان کو بطور بورڈ کے معاملات سنبھالنے کے لیے تعینات کیا گیا۔

پی سی بی نے کوچ مکی آرتھر کے معاہدے کی تجدید نہیں کی اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی بورڈ میں کوئی ذمہ داری نہیں دی جبکہ دونوں عہدے سابق کپتان مصباح الحق کو سونپ دیے گئے جو بطور کوچ اور سلیکٹر کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔