عراق میں ایران کی جارحانہ مداخلت کا خفیہ رپورٹس میں انکشاف،امریکی اخبار

19 نومبر 2019

ای میل

عراق میں گزشتہ دو ماہ سے عوام کا شدید احتجاج جاری ہے—فوٹو:رائٹرز
عراق میں گزشتہ دو ماہ سے عوام کا شدید احتجاج جاری ہے—فوٹو:رائٹرز

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سیکڑوں خفیہ رپورٹس لیک ہوگئی ہیں جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک دہائی تک خانہ جنگی کے بعد اس وقت عوامی احتجاج کے شکار عراق میں تہران کا کس قدر گہرا اثر و رسوخ ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہیں موصول 700 صفحات پر مشتمل رپورٹس کی تصدیق کی گئی ہیں جن میں سے اکثر رپورٹس ایران کی وزارت انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی کی جانب سے 2014 اور 2015 تیار کی گئیں۔

رپورٹ کی حصولی کے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خفیہ ذرائع نے کہا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو پتہ چلنا چاہیے کہ میرے ملک عراق میں ایران کیا کر رہا ہے’۔

امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘دستاویزات میں تفصیلی وضاحت ہوتی ہے کہ تہران کس قدر عراق کے معاملات میں جارحانہ انداز میں کام کر رہا ہے اور اس میں جنرل قاسم سلیمانی کا منفرد کردار ہے’۔

مزید پڑھیں:عراق میں حکومت مخالف سول نافرمانی کی مہم، سرکاری دفاتر بند

رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی ایرانی پاسداران انقلاب کی 'القدس فورس' کے سربراہ ہیں اور عراق میں ایرانی معاملات کو دیکھتے ہیں اور سیاسی کشیدگی کے دوران عراق کا سفر کرتے رہتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عراق میں جاری عوامی احتجاج کے دوران حال ہی میں جنرل سلیمانی نے بغداد اور نجف میں کئی اجلاسوں کی صدارت کی تھی تاکہ سیاسی جماعتوں کو عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا ساتھ دینے کے لیے تیار کیا جائے۔

ایران کی خفیہ رپورٹس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عراق کے موجودہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے پاس جب 2014 میں تیل کی وزارت تھی تو اس وقت ان کو ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کا حامل قرار دیا گیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق عراق کے وزیراعظم کے دفتر نے رابطے کرنے پر ان انکشافات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

عراق کے سابق وزرائے اعظم حیدر العابدی اور ابراہیم الجعفری کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری کو بھی خفیہ دستاویزات میں ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے سیاست دان بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عراق: حکومت مخالف مظاہرے جاری، ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی

نیویارک ٹائمز کے مطابق عراق سے 2011 میں امریکی فوج کی دستبرداری پر ایران کو بھرپور رسائی کا حامل بنا دیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے عراق میں اپنے اثاثوں کو بے روزگار کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی واپسی کے بعد ان ذرائع نے ایران سے رجوع کیا اور انہیں پیسے کے بدلے عراق میں سی آئی اے کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات دینے کی پیش کش کی۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک موقع پر عراقی ملٹری انٹیلی جنس کا افسر ایرانی خفیہ ایجنسی کے عہدیدار سے ملاقات کے لیے بغداد سے مقدس شہر کربلا پہنچا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ‘عراقی عہدیدار نے 3 گھنٹے کی طویل ملاقات میں اپنے ذمہ دار کو کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل حاتم الماکسوسی نے انہیں یہ پیغام ایران تک پہنچانے کو کہا تھا کہ تمام عراقی فوج کی انٹیلی جنس کو اپنی تصور کریں’۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل المکسوسی نے پیش کش کی تھی کہ وہ عراقی وزیراعظم کے دفتر اور ملٹری انٹیلی جنس کے تحت چلنے والے فونز میں خفیہ باتیں سننے کے لیے امریکا کی جانب سے لگائے گئے نظام کی معلومات ایران کو دینے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ عراق نے دو برس قبل داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا جبکہ امریکا نے اپنی فوجیوں کی بڑی تعداد کو واپس بلالیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عراق میں حکومت مخالف مظاہرے،جھڑپوں میں 28 افراد ہلاک

عراق میں اکتوبر میں حکومتی اقدامات کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا تھا جو بدترین خون ریزی کا شکار ہوا تھا اور 200 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ احتجاج تاحال جاری ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت اور اس میں شامل تمام سیاست دان کرپٹ ہیں اس لیے انہیں حکومت کے معاملات سے مکمل طور پر الگ کردیا جائے اور نئی حکومت قائم کرکے بنیادی اصلاحات کی جائیں۔