اقوامِ متحدہ، آیت اللہ کا عراق سے انتشار کے خاتمے کیلئے اصلاحات کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2019

ای میل

یکم اکتوبر سے شیعہ اکثریت اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے نظام حکمرانی کی تجدید کا مطالبہ کررہے ہیں —تصویر: اے ایف پی
یکم اکتوبر سے شیعہ اکثریت اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے نظام حکمرانی کی تجدید کا مطالبہ کررہے ہیں —تصویر: اے ایف پی

نجف: عراق میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار اور ملک کے سینئر ترین مذہبی پیشوا نے حکام پر زور دیا ہے کہ سیکڑوں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حکومت مخالف احتجاج کے بعد اصلاحات کے لیے ’سنجیدہ‘ ہوجائیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں یکم اکتوبر سے شیعہ اکثریت اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے نظام حکمرانی کی تجدید کا مطالبہ کررہے ہیں، مذکورہ احتجاجی لہر عراق میں کئی دہائیوں کے دوران سب سے مقبول اور ہلاکت خیز ہے۔

اس خونی تصادم نے اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور وائٹ ہاؤس میں تشویش کی لہر پیدا کردی اور اُن کی جانب سے بغداد پر ’مظاہرین کے خلاف تشدد کو روکنے‘ اور انتخابی اصلاحات منظور کرنے کے لیے زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: حکومت مخالف مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 260 سے تجاوز کرگئی

چنانچہ اب کئی ہفتوں سے جاری مفلوج نظام زندگی کے باعث عراق کے اعلیٰ رہنما نظام کو برقرار رکھنے پر رضامند نظر آتے ہیں لیکن عراق میں اقوامِ متحدہ (یو این اے ایم آئی) کے عہدیداروں نے نظام میں تبدیلیوں کے لیے زور دیا ہے۔

ان تبدیلیوں میں 2 ہفتوں میں انتخابی اصلاحات، حالیہ پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ داروں اور بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور انسداد بدعنوانی قانون کی منظوری شامل ہے۔

اس سلسلے میں یو این اے ایم آئی کے سربراہ چیف جینائین ہینیس پلاشرٹ نے ملک کے اعلیٰ ترین اہلِ تشیع رہنما آیت اللہ عظمیٰ علی سیستانی سے نجف میں ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: عراق میں یہ سب کیا ہورہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ عراق میں شعیہ مذہبی قوت (مرجعیۃ) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’پرامن مظاہرین اپنے مطالبوں کے جواب میں اطمینان بخش اصلاحات کے بغیر گھر نہیں جاسکتے‘۔

اقوامِ متحدہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’مرجعیۃ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سیاسی قوتیں یہ اصلاحات کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں‘، ساتھ ہی جینائین ہینیس نے واضح کیے بغیر خبردار کیا کہ ’اگر 3 ادارے مقننہ، عدلیہ اور حکومت فیصلہ کن اصلاحات کرنے کے قابل یا اس پر راضی نہیں ہوئے تو ایک مختلف نقطہ نظر سے سوچنے کا طریقہ ہونا چاہیے‘۔

علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ نے اس پر بھی خبردار کیا کہ ’خوف اور غصے کی فضا قائم ہوچکی ہے‘ اور یہ کہ انسانی حقوق کونسل عراق میں حقوق کے ریکارڈ کا متواتر جائزہ لینے کے لیے اجلاس کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عراق میں حکومت مخالف سول نافرمانی کی مہم، سرکاری دفاتر بند

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب کے غیر ملکی آپریشن کے سربراہ میجر جنرل قاسم کی معاونت سے سیاسی اشرافیہ کے درمیان پائی جانے والے ابتدائی اختلافات ختم ہو کر اتفاق رائے ہوگیا۔

اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے میں وسیع تر نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کے تبادلوں کا متواتر سلسلہ بھی شامل تھا۔

مذکورہ تجاویز مکمل طور پر مظاہرین کے مطالبوں کا احاطہ نہیں کرتیں، جو بدعنوان نظامِ حکومت کی مکمل تبدیلی چاہتے ہیں۔


یہ خبر 12 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔