سرکاری افسران کو 10 مئی سے قبل خریدے گئے فون تبدیل کرنےکی ہدایت

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2019

ای میل

واٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق پیگاسس کے ذریعے ویڈیو کالنگ فیچر میں موجود خامی کا غلط استعمال کیا گیا—فائل فوٹو: رائٹرز
واٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق پیگاسس کے ذریعے ویڈیو کالنگ فیچر میں موجود خامی کا غلط استعمال کیا گیا—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی جانب سے واٹس ایپ کے ذریعے پاکستانی عسکری و سرکاری حکام کو نشانہ بنانے کے معاملے پر نئی ہدایات جاری کردی گئیں۔

خیال رہے کہ یکم نومبر کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان سمیت امریکا کے اتحادی ممالک کے سینیئر سرکاری حکام کو واٹس ایپ کے ذریعے صارف کے فون تک رسائی حاصل کرنے والے ہیکنگ سافٹ ویئر کی مدد سے ہدف بنایا گیا۔

واٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق ’پیگاسس‘ نامی میل ویئر کے ذریعے ویڈیو کالنگ فیچر میں موجود خامی کا غلط استعمال کیا اور اس کے ذریعے صارف کے موبائل فون کی سیکیورٹی توڑی گئی، جس میں ایک دفعہ داخل ہوجانے کے بعد فون کے ڈیٹا حتیٰ کے مائیکروفون اور کیمرے تک لامحدود رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرکاری حکام کا فون واٹس ایپ کے ذریعے ہیک کیا گیا

چنانچہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے حساس عہدیداران اور قومی سلامتی کے معاملات سے منسلک سینئر سرکاری حکام کو کچھ ہدایات جاری کیں ہیں۔

مذکورہ اعلامیے میں عہدیداروں کو ہدایت کی گئی کہ کسی قسم کی سرکاری اور خصوصی معلومات واٹس ایپ یا اسی قسم کی کسی اور میسیجنگ ایپلیکیشن کے ذریعے شیئر نہ کی جائیں۔

دوسری ہدایت یہ کی گئی کہ واٹس ایپ کو 4 نومبر کو جاری ہونے والے نئے ورژن تک اپڈیٹ کرلیں۔

علاوہ ازیں عہدیداران کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ 10 مئی 2019 سے قبل خریدے گئے تمام موبائل فون سیٹس فوی طور پر تبدیل کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: سرکاری دفاتر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہوگی، آئی ٹی حکام

وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دشمن خفیہ تنظیموں نے موبائل فون میں محفوظ یا ارسال کردہ حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی تکنیکی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ پیگاسس نامی ایک ’میل ویئر‘ (وائرس) کے ذریعے 28 اپریل سے 10 مئی کے دوران پاکستان سمیت دنیا کے 20 ممالک کے ایک ہزار 400 عسکری و سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ فیس بک کی ملکیت میں میسجنگ سافٹ ویئر نے الزام لگایا تھا کہ این ایس او گروپ نے ہیکنگ پلیٹ فارم بنایا اور اسے بھیج کر واٹس ایپ کے سرور میں خرابی پیدا کی جس سے 29 اپریل 2019 سے 10 مئی 2019 تک تقریباً 1400 صارفین کے سیل فون ہیک کرنے میں آسانی ہوئی۔

بعدازاں29 اکتوبر کو واٹس ایپ نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کے خلاف مبینہ ہیکنگ میں مختلف حکومتی اداروں کو مدد دینے پر مقدمہ دائر کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے اسرائیلی کمپنی کے خلاف ہیکنگ کا مقدمہ دائر کردیا

سان فرانسسکو کی عدالت میں دائر مقدمے میں فیس بک کی زیر ملکیت واٹس ایپ نے این ایس او پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے مختلف ممالک میں سفارتکاروں، سیاسی رہنماﺅں، صحافیوں اور سینئر حکومتی عہدیداران کو ہدف بنا کر ان کے فونز میں اس میسیجنگ ایپ کو ہیک کیا۔

واٹس ایپ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ متعدد صارفین کی موبائل ڈیوائسز پر ویڈیو کالنگ سسٹم کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر میل ویئر بھیجے گئے، جن کی بدولت این ایس او کے موکلین (مختلف حکومتیں اور انٹیلی جنس ادارے وغیرہ) کو فون کے مالک کی خفیہ جاسوسی میں مدد ملی جبکہ ان کی ڈیجیٹل زندگیاں حکومتی اسکروٹنی کی زد میں آگئیں۔

تاہم کمپنی کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ 'ہم ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور اس کے خلاف پوری قوت سے لڑیں گے، این ایس او کا واحد مقصد لائسنس یافتہ حکومتی انٹیلی جنس کو ٹیکنالوجی فراہم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشتگردی اور سنگین جرائم کے خلاف لڑنے میں مدد دینا ہے'۔