بنگلہ دیش بھی بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر پریشان ہے، عارف علوی

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2019

ای میل

بھارت میں شہریت سے محروم کیے جانے والے افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں—فوٹو: اے پی پی
بھارت میں شہریت سے محروم کیے جانے والے افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں—فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش بھی بھارت میں ان مسلمانوں کے بارے میں بہت تشویش میں مبتلا ہے جنہیں شہریت ایکٹ 1955 میں حالیہ ترمیم کے تحت امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

ایوان صدر میں چیئرمین شوریٰ کونسل ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ کی سربراہی میں سعودی پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ 'میں نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے بات کی ہے جو بھارت کی ریاست بہار میں مسلمانوں کی حالت زار سے پریشان ہیں اور ان کے ملک میں تارکین وطن کی آمد کا خدشہ ہے'۔

مزیدپڑھیں: بھارت: شہریت سے محروم 19لاکھ افراد کیلئے حراستی مراکز قائم کرنے کا انکشاف

علاوہ ازیں ڈاکٹر عارف علوی کے پریس سیکریٹری میاں جہانگیر اقبال نے ڈان کو بتایا کہ صدر مملکت نے باکو میں حالیہ کانفرنس کے دوران حسینہ واجد سے بات کی اور انہوں نے بھارت میں شہریت ایکٹ میں ہونے والی ترامیم پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس اجلاس میں شریک ایک ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عارف علوی کا موقف تھا کہ اس ترمیمی بل کے تحت بھارت میں مسلمانوں کو اپنی شہریت برقرار رکھنے کے لیے اپنے آباو اجداد کی جائیدادوں کے ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔

ذرائع نے صدر کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بھارتی حکومت کی طرف سے بہار کے مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کریں گے'۔

دریں اثنا سعودی وفد سے ملاقات کے بعد جاری ایک اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ سعودی عرب نے امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کی جارہی سازش کو اجاگر کرے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کردیا جائےگا، وزیر داخلہ

واضح رہے کہ بھارتی کابینہ نے 4 دسمبر کو ایک قانون سازی پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مسلمانوں کو چھوڑ کر بعض مذہبی اقلیتوں کو شہریت دی جائے گی۔

ترمیم شدہ بل میں پیدائش کے لحاظ سے، رجسٹریشن اور نیچر لائزیشن یا نسل کے ذریعے شہریت کی مختلف اقسام کا تعین کرنے کی دفعات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اگر مذکورہ بل منظور ہوتا ہے تو بنگلہ دیش اور پاکستان سے غیر قانونی تارکین وطن کے زمرے میں اہم تبدیلیاں جنم لیں گی۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ سعودی حکام نے 4 ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو میں پھنسے ہوئے کشمیریوں کی پریشانیوں پر مسلم ممالک کی کانفرنس منعقد کرانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت 5 اگست کو ختم کردی تھی جس کے بعد سے اب تک وادی میں کرفیو جاری اور مواصلات کا نظام معطل ہے۔

مزید پڑھیں: آسام: قبائلی حملوں میں دیہاتی مسلمانوں کی ہلاکتیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ بھی بھارت پر زور دے چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کی جائے اور مواصلات کا نظام بحال کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ شوریٰ کونسل کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی پاکستان سے حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

وزیراعظم کی سعودی وفد سے ملاقات

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے سعودی وفد سے علیحدہ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کی پارلیمنٹ کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔

انہوں نے شوریٰ کونسل کے چیئرمین کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی صورتحال کی سنگین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کے دکھوں کو دور کرنے کے لیے ہرممکن کوششیں کریں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل نکالیں۔


یہ خبر 7 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی