‘سزا یافتہ، مفرور افراد کو میڈیا سے دور رکھنے کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت’

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان کابینہ اجلاس کے ایجنڈے سے آگاہ کررہی تھیں—فوٹو:ڈان نیوز
فردوس عاشق اعوان کابینہ اجلاس کے ایجنڈے سے آگاہ کررہی تھیں—فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزیرقانون کو سزایافتہ اور مفرور افراد کو میڈیا کی زینت بننے سے روکنے کے لیے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 12نکات پیش کیے گئے تھے جن میں سے 6 نکات کی منظوری دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں حکومت کی 15ماہ کی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا اور عوام کوریلیف کے راستے میں درپیش مشکلات کو دور کرنے پر غور ہوا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو وزارت پانی و بجلی، تیل اور گیس کیا جانب سے بریفنگ دی گئی اور وزیر توانائی نے بتایا کہ گردشی قرضے کم کرکے 12 ارب تک لایا گیا جبکہ حکومت گھریلو صارفین کو بجلی کی مد میں 242 ارب روپے کی سبسڈی اور صنعتوں کے لیے 29 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ای کامرس پالیسی کی منظوری

انہوں نے کہا کہ بجلی کے عملے کی ملی بھگت سے ہونے والی ردوبدل کو روکنے کے لیے اجلاس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے 100 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے اور اس سبسڈی میں گھریلو صارفین کے لیے 45 ارب کو مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئل اور گیس کی وزارت نے بتایا کہ حکومت کو 181ارب روپے کاخسارہ ملا اس کو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے کسان کو 10 ارب روپے اور گھریلو صارفین کو 19ارب کی سبسڈی مختص کی گئی اب 2019-20 کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کے میٹر مقامی کمپنی ایس ایس جی بناتی تھی لیکن گزشتہ ادوار میں اس کو بند کرکے درآمد کیا گیا جس سے زرمبادلہ نقصان ہوا تاہم کابینہ میں متعلقہ وزیر کو میٹر بنانے کے عمل کو بحال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے بھارت کی جانب سے دنیا بھر میں بسنے والے ہندووں کو بھارت میں سہولت کاری کے لیے بنائے گئے قانون کی شدت سے مذمت کی کیونکہ اس کا پس منظر کشمیر کو شامل کرنا ہے اور آر ایس ایس کے نظریے کو ترویج دینے کے عمل کا ایک سلسلہ ہے۔

'بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی قانون کا مذاق اڑایا جاتا ہے'

معاون خصوصی نے کہا کہ ‘کابینہ اجلاس میں چند وزرا نے ایک ایسے قانون لانے کیے لیے تفصیل سے بات کی کہ وہ لوگ جو سزا یافتہ ہیں جو کرپشن کے کیسز میں مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے کے بعد وکٹر کا نشان بناتے ہیں اور خاص کر جو پاکستان کے قانون کو مطلوب ہیں وہ ہمارے میڈیا پر آکر انٹرویوز دیتے ہیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں’۔

مزید پڑھیں:کابینہ نے ’مفاد عامہ‘ کے 8 آرڈیننس کی منظوری دے دی، وزیر قانون

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘وزیر قانون کو ذمہ داری دی گئی کہ ہمارے معاشرتی نظام کو تباہ ہونے سے بچائیں کیونکہ جس معاشرے میں جھوٹ اور سچ میں تفریق پیدا نہیں ہوتی وہ معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چور، ڈاکو اس قوم کے ساتھ ناانصافیاں کرنے والے اگر مسیحا کے روپ میں چینلز یا میڈیا کی زینت بنیں گے تو اس سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوگا اور جرائم کی شرح کبھی کم نہیں ہوگی بلکہ جرم کی حوصلہ افزائی ہوگی اس لیے انہیں ایجنڈا دیا گیا ہے کہ اس پر لائحہ عمل بنائیں’۔

فردو عاشق اعوان نے کہا کہ ‘بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ کو جج اسپیشل اپیلیٹ کورٹ بلوچستان بنانے کی منظوری دی گئی، خصوصی طور پر بنائی گئی اس عدالت کا مقصد اسمگلنگ کی روک تھام کرنا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے پروگرام کے تحت سہولیات کو بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی اور وزیراعظم نےوفاق کےزیر انتظام ہسپتالوں میں عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کایبنہ اجلاس میں مسابقتی کمیشن نے ذخیرہ اندوزی کے تدارک کے لیےاقدامات سے آگاہ کیا اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

مریم نواز کو نواز شریف کی عیادت کے لیے اجازت دینے کے حوالے سے ایک سوال پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملے کابینہ میں زیر بحث آیا تھا اور درخواست کابینہ کی سب کمیٹی کو بھیج دی گئی جو جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر قانون و انصاف نے وفاقی کابینہ کو اس معاملے پر بتایا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا قانون موجود نہیں جو کسی سزا یافتہ بیمار قیدی سے ملاقات کے لیے بیٹی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی اجازت دیتا ہو اس کے لیے مریم نواز کو ٹھوس وجوہات دینا پڑیں گی۔